- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- حدیث نمبر 4889
باب:خوش طبعی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4889
اچھی باتوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرَ بْنَ حَرَامٍ وَكَانَ يُهْدِيْ لِلنَّبِيِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ . وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهٗ وَكَانَ دَمِيمًا فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهٗ فَاحْتَضَنَهٗ مِنْ خلفِه وَهُوَ لَا يُبْصِرْهٗ. فَقَالَ: أَرْسِلْنِيْ مَنْ هٰذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم فَجَعَلَ لَا يَألُوْا مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهٗ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهٗ وَجَعَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِذًا وَاللّٰهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لٰكِنْ عِنْدَ اللّٰهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
وعنه أن رجلا من أهل البادية كان اسمه زاهر بن حرام وكان يهدي للنبي صلى الله عليه وسلم من البادية فيجهزه رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يخرج فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن زاهرا باديتنا ونحن حاضروه . وكان النبي صلى الله عليه وسلم يحبه وكان دميما فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يوما وهو يبيع متاعه فاحتضنه من خلفه وهو لا يبصره. فقال: أرسلني من هذا؟ فالتفت فعرف النبي صلى الله عليه وسلم فجعل لا يألوا ما ألزق ظهره بصدر النبي صلى الله عليه وسلم حين عرفه وجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من يشتري العبد؟ فقال: يا رسول الله إذا والله تجدني كاسدا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لكن عند الله لست بكاسد رواه في شرح السنة
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہی سے کہ ایک شخص دیہاتیوں میں سے ان کا نام زاہر ابن حرام تھا ۱∞؎وہ گاؤں سے حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے ہدیہ لاتے تھے ۲؎پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم انہیں سامان دیتے تھے جب وہ جانا چاہتے ۳؎فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ زاہر ہمارے دیہاتی بھائی ہیں اور ہم زاہر کے شہری ہیں ۴؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے وہ خوبصورت نہ تھے ۵؎ایک دن نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے زاہر اپنا سامان بیچ رہے تھے حضور نے ان کو پیچھے سے گود میں لے لیا ۶؎وہ حضور کو نہ دیکھتے تھے بولے یہ کون ہیں مجھے چھوڑ دو انہوں نے التفات کیا تو نبی صلی الله علیہ وسلم کو پہچان لیا ۷؎تو انہوں نے کمی نہیں کی اپنی پیٹھ نبی صلی الله علیہ وسلم کے سینہ سے رگڑنے لگے جب کہ حضورکو پہچان لیا ۸؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدتا ہے ۹؎وہ بولے تب تو رب کی قسم آپ مجھے بے قیمت پائیں گے۱۰؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تم الله کے نزدیک بے قیمت نہیں ہو ۱۱∞؎(شرح سنہ )
شرح حدیث
۱∞؎ان خوش نصیب صحابی کے حالات معلوم نہ ہوسکے حتی کہ صاحب مشکوۃ نے اپنی کتاب اکمال میں بھی بیان نہیں کیے کیونکہ یہ صحابی کسی حدیث کے راوی نہیں۔
۲؎یعنی دیہاتی چیزیں پھل پھلاری،کھیت کی پیداوار وغیرہ حضور انور کے لیے تحفہ ہی لایا کرتے تھے۔
۳؎یعنی جب زاہر مدینہ منورہ سے واپس جانے لگتے تو حضور صلی الله علیہ وسلم شہری چیزیں بطور ہدیہ و سوغات ان کو دیتے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے گھر لے جائیں۔
۴؎یعنی زاہر ہماری دیہاتی ضرورتیں پوری کرتے رہتے ہیں اور ہم زاہر کی شہری ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں گویا زاہر ہمارا گاؤں ہیں اور ہم زاہر کا شہر یہ اخلاق کریمانہ ہیں کہ اپنے غلاموں نیاز مندوں کو ان القاب سے نوازتے ہیں۔
۵؎حضور صلی الله علیہ وسلم ان سے بہت ہی محبت فرماتے تھے اگرچہ وہ ویسے ہی تھے جیسے حبشی لوگ خصوصًا دیہاتی ہوتے ہیں شکل و لباس دیہات کا سا۔دمیمکے معنی ہوتے ہیں بدشکل۔(مرقات)مگر اس کی شکل پر ہزاروں خوبصورت قربان جسے پیا چاہے وہ سہاگن
۶؎اس طرح کہ حضور انور ان کے پیچھے بیٹھے انہیں پیچھے سے اپنی گود میں لے لیا ان کی بغلوں میں سے ہاتھ ڈال کر اپنا ہاتھ شریف زاہر کی آنکھوں پر رکھ لیا یعنی پہچانو ہم کون ہیں۔کاش! میں اس وقت زاہر کے پاس ہوتا تو اس کے قدم سے اپنی آنکھیں ملتا۔رضی الله تعالیٰ عنہ یہ واقعہ بیچ بازار میں ہورہا ہے۔
۷؎حضرت زاہر پہچان تو پہلے ہی گئے ہوں گےبھلا حضور کی خوشبو مہک کسی اور میں کہا۔مقصد یہ ہے کہ جب انہوں نے حضور کو آنکھوں دیکھ لیا بذریعہ کنکھیوں کے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے جسم اطہر میں ایسی خوشبو تھی کہ جس گلی سے گزرتے وہاں کے گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگ پہچان جاتے تھے کہ حضور گزرے۔شعر
آمدی از پس ببازی چشم پوشیدی مرا اے نگاہ دست رنگین دست بکشا کیتی
۸؎حضرت زاہر نے یہ موقعہ غنیمت جانا کہ خود حضور انور نے مجھے اپنی گود میں لے لیا ہے اور اپنا سینہ میری پشت سے متصل کردیا ہے ایسے موقعہ بار بار ہاتھ نہیں آتے اس لیے اپنی پشت کو حضور کے سینہ انور سے خوب مس کیا برکت حاصل کرنے کے لیے۔معلوم ہوا کہ اپنے خدام سے خوش طبعی کرنا سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے اور برکت کے لیے بزرگوں کا جسم ان کے کپڑے چھونے سنت صحابہ ہے۔
۹؎یہ کلام بالکل حق ہے۔عبدسے مراد ہے عبدالله،خریدنے سے مراد ہے اس کے عوض دوسرا لانا یعنی کون ہے جو اس جیسا الله کا بندہ مجھے دکھائے یااشتراءمیں تجرید ہے لہذا بمعنییاخذہے یعنی اس الله کے بندے کو کون لیتا ہے مجھے سے۔(مرقات)۱۰؎یعنی مجھ میں نہ شکل نہ عقل نہ رنگ نہ ڈھنگ مجھے کون قبول کرے گا ایسوں کو کون لیتا ہے میں آپ کا کیسے ہو سکتا ہوں۔
۱۱∞؎جو حضور کا ہو جاوے وہ بے قیمت کیسے ہوسکتا ہے انکی قیمت سارا جہان نہیں ہوسکتا۔مدینہ منورہ میں ایک صاحب تھے بازار میں جو نئی چیز دیکھتے حضور انور کی خدمت میں ہدیہ لے آتے تھے جب چیز کا مالک قیمت مانگتا ہے تو اسے بھی حضور کے پاس لے آتے،عرض کرتے حضور فلاں دن جو حضور کے پاس فلاں چیز میں نے حاضر کی تھی اس کی قیمت حضور اسے دے دیں یہ تقاضا کررہا ہے،حضور تبسم فرماکر فرماتے کہ تم نے تو وہ چیز ہم کو ہدیۃً دی تھی،عرض کرتے حضور میری پاس اس کی قیمت کہاں سے آئی حضور قیمت ادا فرماتے مگر ان سے کچھ نہ کہتے۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4889