Main Icon

باب:خوش طبعی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4889

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرَ بْنَ حَرَامٍ وَكَانَ يُهْدِيْ لِلنَّبِيِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ . وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهٗ وَكَانَ دَمِيمًا فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهٗ فَاحْتَضَنَهٗ مِنْ خلفِه وَهُوَ لَا يُبْصِرْهٗ. فَقَالَ: أَرْسِلْنِيْ مَنْ هٰذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم فَجَعَلَ لَا يَألُوْا مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهٗ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهٗ وَجَعَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِذًا وَاللّٰهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لٰكِنْ عِنْدَ اللّٰهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعنه أن رجلا من أهل البادية كان اسمه زاهر بن حرام وكان يهدي للنبي صلى الله عليه وسلم من البادية فيجهزه رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يخرج فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن زاهرا باديتنا ونحن حاضروه . وكان النبي صلى الله عليه وسلم يحبه وكان دميما فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يوما وهو يبيع متاعه فاحتضنه من خلفه وهو لا يبصره. فقال: أرسلني من هذا؟ فالتفت فعرف النبي صلى الله عليه وسلم فجعل لا يألوا ما ألزق ظهره بصدر النبي صلى الله عليه وسلم حين عرفه وجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من يشتري العبد؟ فقال: يا رسول الله إذا والله تجدني كاسدا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لكن عند الله لست بكاسد رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ ایک شخص دیہاتیوں میں سے ان کا نام زاہر ابن حرام تھا ۱∞؎وہ گاؤں سے حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے ہدیہ لاتے تھے ۲؎پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم انہیں سامان دیتے تھے جب وہ جانا چاہتے ۳؎فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ زاہر ہمارے دیہاتی بھائی ہیں اور ہم زاہر کے شہری ہیں ۴؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے وہ خوبصورت نہ تھے ۵؎ایک دن نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے زاہر اپنا سامان بیچ رہے تھے حضور نے ان کو پیچھے سے گود میں لے لیا ۶؎وہ حضور کو نہ دیکھتے تھے بولے یہ کون ہیں مجھے چھوڑ دو انہوں نے التفات کیا تو نبی صلی الله علیہ وسلم کو پہچان لیا ۷؎تو انہوں نے کمی نہیں کی اپنی پیٹھ نبی صلی الله علیہ وسلم کے سینہ سے رگڑنے لگے جب کہ حضورکو پہچان لیا ۸؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدتا ہے ۹؎وہ بولے تب تو رب کی قسم آپ مجھے بے قیمت پائیں گے۱۰؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تم الله کے نزدیک بے قیمت نہیں ہو ۱۱∞؎(شرح سنہ )

شرح حدیث

۱∞؎ان خوش نصیب صحابی کے حالات معلوم نہ ہوسکے حتی کہ صاحب مشکوۃ نے اپنی کتاب اکمال میں بھی بیان نہیں کیے کیونکہ یہ صحابی کسی حدیث کے راوی نہیں۔
۲
؎یعنی دیہاتی چیزیں پھل پھلاری،کھیت کی پیداوار وغیرہ حضور انور کے لیے تحفہ ہی لایا کرتے تھے۔
۳
؎یعنی جب زاہر مدینہ منورہ سے واپس جانے لگتے تو حضور صلی الله علیہ وسلم شہری چیزیں بطور ہدیہ و سوغات ان کو دیتے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے گھر لے جائیں۔
۴
؎یعنی زاہر ہماری دیہاتی ضرورتیں پوری کرتے رہتے ہیں اور ہم زاہر کی شہری ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں گویا زاہر ہمارا گاؤں ہیں اور ہم زاہر کا شہر یہ اخلاق کریمانہ ہیں کہ اپنے غلاموں نیاز مندوں کو ان القاب سے نوازتے ہیں۔
۵
؎حضور صلی الله علیہ وسلم ان سے بہت ہی محبت فرماتے تھے اگرچہ وہ ویسے ہی تھے جیسے حبشی لوگ خصوصًا دیہاتی ہوتے ہیں شکل و لباس دیہات کا سا۔دمیمکے معنی ہوتے ہیں بدشکل۔(مرقات)مگر اس کی شکل پر ہزاروں خوبصورت قربان جسے پیا چاہے وہ سہاگن
۶
؎اس طرح کہ حضور انور ان کے پیچھے بیٹھے انہیں پیچھے سے اپنی گود میں لے لیا ان کی بغلوں میں سے ہاتھ ڈال کر اپنا ہاتھ شریف زاہر کی آنکھوں پر رکھ لیا یعنی پہچانو ہم کون ہیں۔کاش! میں اس وقت زاہر کے پاس ہوتا تو اس کے قدم سے اپنی آنکھیں ملتا۔رضی الله تعالیٰ عنہ یہ واقعہ بیچ بازار میں ہورہا ہے۔
۷
؎حضرت زاہر پہچان تو پہلے ہی گئے ہوں گےبھلا حضور کی خوشبو مہک کسی اور میں کہا۔مقصد یہ ہے کہ جب انہوں نے حضور کو آنکھوں دیکھ لیا بذریعہ کنکھیوں کے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے جسم اطہر میں ایسی خوشبو تھی کہ جس گلی سے گزرتے وہاں کے گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگ پہچان جاتے تھے کہ حضور گزرے۔شعر
آمدی از پس ببازی چشم پوشیدی مرا اے نگاہ دست رنگین دست بکشا کیتی
۸
؎حضرت زاہر نے یہ موقعہ غنیمت جانا کہ خود حضور انور نے مجھے اپنی گود میں لے لیا ہے اور اپنا سینہ میری پشت سے متصل کردیا ہے ایسے موقعہ بار بار ہاتھ نہیں آتے اس لیے اپنی پشت کو حضور کے سینہ انور سے خوب مس کیا برکت حاصل کرنے کے لیے۔معلوم ہوا کہ اپنے خدام سے خوش طبعی کرنا سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے اور برکت کے لیے بزرگوں کا جسم ان کے کپڑے چھونے سنت صحابہ ہے۔
۹
؎یہ کلام بالکل حق ہے۔عبدسے مراد ہے عبدالله،خریدنے سے مراد ہے اس کے عوض دوسرا لانا یعنی کون ہے جو اس جیسا الله کا بندہ مجھے دکھائے یااشتراءمیں تجرید ہے لہذا بمعنییاخذہے یعنی اس الله کے بندے کو کون لیتا ہے مجھے سے۔(مرقات)۱۰؎یعنی مجھ میں نہ شکل نہ عقل نہ رنگ نہ ڈھنگ مجھے کون قبول کرے گا ایسوں کو کون لیتا ہے میں آپ کا کیسے ہو سکتا ہوں۔
۱۱∞؎
جو حضور کا ہو جاوے وہ بے قیمت کیسے ہوسکتا ہے انکی قیمت سارا جہان نہیں ہوسکتا۔مدینہ منورہ میں ایک صاحب تھے بازار میں جو نئی چیز دیکھتے حضور انور کی خدمت میں ہدیہ لے آتے تھے جب چیز کا مالک قیمت مانگتا ہے تو اسے بھی حضور کے پاس لے آتے،عرض کرتے حضور فلاں دن جو حضور کے پاس فلاں چیز میں نے حاضر کی تھی اس کی قیمت حضور اسے دے دیں یہ تقاضا کررہا ہے،حضور تبسم فرماکر فرماتے کہ تم نے تو وہ چیز ہم کو ہدیۃً دی تھی،عرض کرتے حضور میری پاس اس کی قیمت کہاں سے آئی حضور قیمت ادا فرماتے مگر ان سے کچھ نہ کہتے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4889