Main Icon

باب:خوش طبعی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4892

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُمَارِ أَخَاكَ وَلَا تُمَازِحْهُ وَلَا تَعِدْهُ مَوْعِدًا فَتَخْلِفَهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حديثٌ غَرِيْبٌ

وعن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تمار أخاك ولا تمازحه ولا تعده موعدا فتخلفه . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عباس سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا اپنے بھائی سے نہ جھگڑا کرو نہ اس کا مذاق اڑاؤ ۱∞؎نہ اس سے کوئی وعدہ کرو جو خلاف کرو ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپس کا مذاق جس سے ہر ایک کا دل خوش ہو یہ چند شرطوں سے جائز ہے جیساکہ عرض کیا جاچکا ہے مگر کسی کا مذاق اڑانا جس سے سامنے والے کو تکلیف پہنچے بہرحال حرام ہے وہ ہی یہاں مرادہے کیونکہ مسلمان کو ایذاء دینا حرام ہے۔
۲
؎یہاں وعدے سے وہ وعدہ مراد ہے جو جائز ہو،بعض فقہاء کے نزدیک ایساوعدہ پوراکرنا واجب ہے،اکثر کے ہاں مستحب ہے اگر وعدہ کے وقتان شاءاللهکہہ دیاجاوے تو سب کے نزدیک اس کا پوراکرنا مستحب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4892