Main Icon

باب: بخششوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3008

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهٖ ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا» . فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ: إِنَّهٗ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُورَثُ، وَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبٰى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلٰى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عمر أن عمر أصاب أرضا بخيبر فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إني أصبت أرضا بخيبر لم أصب مالا قط أنفس عندي منه فما تأمرني به ؟ قال: «إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها» . فتصدق بها عمر: إنه لا يباع أصلها ولا يوهب ولا يورث، وتصدق بها في الفقراء وفي القربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف أو يطعم غير متمول قال ابن سيرين: غير متأثل مالا. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ جناب عمر نے خیبر میں کچھ زمین پائی ۱؎تو آپ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میں نے خیبر میں ایسی زمین پائی ہے کہ میرے خیال میں ایسا نفیس مال میں نے کبھی نہ پایا ۲؎حضور والا مجھے اس کے متعلق کیا حکم فرماتے ہیں ۳؎فرمایا اگر تم چاہو تو اصل زمین محفوظ کردو اور اسے صدقہ کردو ۴؎چنانچہ حضرت عمر نے صدقہ کردی کہ اصل زمین نہ بیچی جائے اور نہ ہبہ کی جائے نہ موروثی ہو اور فقیر، قرابت داروں،اللّٰهکی راہ، مسافروں،مہمانوں میں صدقہ کردی ۵؎اس زمین کے متولی پر اس میں مضائقہ نہیں کہ اس میں سے بطریق احسن کچھ کھالے یا کھلائے ۶؎ہاں اسے مال نہ بنائے۔ابن سیرین نے فرمایاغیر متاثل مالا۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جس میں بہترین باغ تھے،اولًا تو زمین خیبر خود ہی بہت سبزہ زار ہے،پھر اس میں باغات بھی تھے جن کی آمدنی بہت تھی اس لیے آپ کو یہ زمین بہت ہی پسند آئی،یہ واقعہ غزوہ خیبر کے بعد کا ہے۔
۲
؎کیونکہ اولا تو مال غیر منقول ویسے بھی اعلٰی ہوتا ہے،خصوصًا خیبر کی زمین زرخیز و سبزہ زار جو پشتہا پشت تک کام آئے،ایسا اعلٰی مال میرے پاس کبھی نہ آیا تھا۔
۳
؎یعنی اس مال کو راہ خدا میں خیرات کرنا چاہتا ہوں مگر خبر نہیں کہ کیسی خیرات بہتر ہوگی ۔یہ عمل تھا اس آیت پر کہ"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ"اپنی پیاری چیز خیرات کرنا افضل ہے۔
۴
؎یعنی بہتر یہ ہوگا کہ یہ باغ فقراء پر وقف کردو کہ مالک کوئی نہ ہوں،فروخت وغیرہ کا کسی کو حق نہ ہو اور اس سے نفع سارے فقراء اٹھائیں،یہ وقف صدقہ جاریہ ہوگا۔
۵
؎قرابتداروں سے مراد یا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے قرابتدار مراد ہیں یا اپنے یا دونوں۔ فقراء سے مراد عام مدینہ کے فقراء خصوصًا اہل صفہ،رقاب سے مراد مکاتب غلاموں کا بدل کتابت ادا کرکے انہیں آزاد کرنا یا مقروض کے قرض ادا کرنا،مہمانوں سے مراد غرباء اہلِ مدینہ کے گھر آنے والے مہمان جن کی وہ خاطر تواضع مہمان نوازی نہ کرسکیں،ان مہمانوں کو اس باغ کی آمدنی سے دیا جائے،اللّٰهکی راہ سے مراد غازی،مسافر وغیرہ ہیں۔
۶
؎یعنی اس باغ کے منتظم و متولی کو بھی اجازت ہوگی کہ اپنی اجرت اس باغ سے لے لے کہ اسی میں سے کھائے،اپنے بچوں،دوستوں کو کھلائے مگر فساد کی نیت سے نہ ہو بلکہ اجرت وصول کرنے کی نیت سے۔
۷
؎یعنی دفع ضرورت کے لیے خرچ کرے،مال جمع نہ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین یا باغ کا وقف درست ہے اور مال وقف کی نہ بیع درست ہے،نہ ہبہ،نہ تملیک،یہ بھی معلوم ہوا وقف کرنا بہت اعلٰی عبادت ہے کہ یہ صدقہ جاریہ ہے،یہ بھی معلو م ہوا کہ حضرات صحابہ کیسے مخلص مؤمن تھے کہ ہمیشہ اعلٰی کاموں میں سبقت فرماتے تھے،یہ بھی معلوم ہوا کہ خیبر صلح سے حاصل نہ ہوا بلکہ جنگ سے فتح کیا گیا اسی لیے وہاں کی زمین غازیوں میں تقسیم کردی گئی،یہ بھی معلوم ہوا کہ صحت وقف کے لیے متولی مقرر کرنا لازم نہیں،دیکھو حضرت عمر نے کسی کو متولی نہ بنایا بلکہ قاعدہ مقرر فرمادیا کہ متولی کو یہ حقوق ہوں گے، یہ بھی معلوم ہوا کہ متولی وقف سے خرچ کرسکتا ہے کھا کھلا سکتا ہے۔خیال رہے کہ واقف خود بھی ایسے وقف سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،حضرت عثمان غنی نے بیر رومہ وقف کیا مگر خود بھی اس کا پانی پیتے تھے لہذا واقف اپنے وقف کردہ قبرستان میں دفن ہوسکتا ہے،اپنی مسجد میں نما ز،اپنے کنوئیں سے پانی حاصل کرسکتا ہے۔یہ حدیث بہت سے مسائل وقف کی اصل ہے۔اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔وقف علی الاولادبھی درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3008