Main Icon

باب: بخششوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3009

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعُمْرٰى جَائِزَةٌ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «العمرى جائزة»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا عمر بھر کو دینا جائز ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عمرہ حج اور ہے عمرہ عطاء کچھ اور یہاں عمرہ عطاء مراد ہے۔اس کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ کوئی شخص کسی کو زمین وغیرہ اس کی عمر بھر کے لیے دے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دے کہ تیرے بعد تیرے وارثوں کی یہ بالاتفاق جائز ہے کہ موہوب لہ کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کوملے گی،وارث نہ ہوں تو بیت المال کو واہب کو نہ لوٹے گی۔دوسرے یہ کہ اس کے وارثوں کا ذکر نہ کرے،یہ عمرہ ہمارے ہاں جائز ہے اور حق یہ ہے کہ امام شافعی کے ہاں بھی درست ہے،اس کا حکم پہلے عمری کا سا ہے کہ یہ بھی کسی صورت میں واہب کو نہ لوٹے گی۔تیسرے یہ کہ لوٹنے کی شرط لگادے کہ کہہ دے تیری حین حیات تک تیرے بعد میں میری،اس میں ہمارے ہاں اختلاف ہے،فتویٰ اس پر ہے کہ یہ بھی جائز ہے اور لوٹنے کی شرط باطل کہ یہ ہبہ بالشرط ہے اور ہبہ بالشرط جائز ہوتا ہے،شرط باطل ہوتی ہے،لہذا اس صورت میں بھی یہ شے موہوب لہ کی ہوگی،واہب کو نہ لوٹے گی،امام احمد کے ہاں مطلق عمرہ درست ہے مؤقت باطل،امام مالک کے ہاں عمریٰ میں منافع کی ملکیت ہوتی ہے اصل شے کی نہیں یعنی موہوب لہ اس کو برت سکتا ہے اس کا مالک نہیں مگر مذہب حنفی قوی ہے کہ اس کی تائید بہت سی احادیث سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3009