Main Icon

باب: بخششوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3012

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يَقُولَ: هِيَ لَكَ وَلِعَقَبِكَ،فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِنَّهَا تَرجِعُ إِلٰى صَاحِبِهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: إنما العمرى التي أجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقول: هي لك ولعقبك،فأما إذا قال: هي لك ما عشت فإنها ترجع إلى صاحبها. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں وہ عمری جسے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جائز کیا ۱؎وہ یہ ہے کہ کہے یہ تیرا اور تیرے پسماندگان کا ہے ۲؎لیکن اگر یوں کہے کہ تیرے جیتے جی تیری ہے تو وہ اپنے مالک کو لوٹ جائے گی ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جائز کہا سے مراد ہے کہ موہوب لہٗ کو اس کا مالک بنایا،دوسرا عمریٰ بھی جائز تو ہے مگر موہوب لہ اس کا مالک نہیں بنتا صرف نفع حاصل کرسکتا ہے،بعدموت واہب کو لوٹ جائے گا۔
۲
؎یعنی عمرے کی پہلی قسم تو بالاتفاق درست ہے۔
۳
؎یہ حدیث امام مالک و امام زہری کی دلیل ہے کہ اگر عمرے میں وراثت کا ذکر نہ ہو تو دینے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے،ان کی دلیل وہ حدیث جابر ہے جو مرفوعًا فرمائیاَلعمری میراثٌ لِاَھلِھَاعمری معمرلہ کی میراث ہے،یہاں العمری مطلق ہے جو تینوں قسموں کو شامل ہے،رہی یہ حدیث یہ حضرت جابر کا اپنا اجتہاد ہے نہ کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا فرمان عالی لہذا وہ ہی حدیث قابل عمل ہے یہ مرجوح ہے۔(اشعہ و مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3012