Main Icon

باب: کرایہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2981

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: زَعَمَ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن عبد الله بن مغفل قال: زعم ثابت بن الضحاك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزارعة وأمر بالمؤاجرة وقال: «لا بأس بها» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن مغفل ۱؎سے فرماتے ہیں کہ ثابت ابن ضحاک نے فرمایا ۲؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کھیتی کرانے سے منع فرمایا ۳؎اور زمین کرایہ پر دینے کی اجازت دی اور فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مغفل بروزن محمد،غین اور ف سے،آپ صحابی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ میں قیام رہا،عہد فاروقی میں آپ کو بصرہ بھیج دیا گیا،وہاں ہی ۶۰ھ؁∞ میں وفات ہوئی،بعض نسخوں میں عبداللّٰهابن معقل عین و قاف سے ہے،سکون عین سے قاف کے کسرہ سے وہ تابعین میں سے ہیں۔(اشعہ و مرقات)
۲
؎آپ کانام ثابت،کنیت ابو یزید ہے،انصاری خزرجی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک تھے اس وقت نو عمر تھے،فتنہ عبداللّٰهابن زبیر کے زمانہ میں وفات پائی، ۳ھ؁∞ میں پیدائش ہے، ۷۰ھ؁∞ میں وفات۔
۳
؎اس ممانعت کی وجہ پہلے ہوچکی کہ اگر کسی خاص حصہ زمین کی پیداوار کو اجرت قرار دیا جائے تو مزارعت ممنوع ہے ورنہ جائز،یہاں وہ ہی ممنوع صورت مراد ہے۔
۴
؎یعنی زمین کو نقد روپیہ میں کرایہ پر دینا بلا کراہت درست۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2981