Main Icon

باب: کرایہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2985

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ إِنَّ فِي الْمَاءَ لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرِئَ فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلٰى أَصْحَابِهٖ فَكَرِهُوا ذٰلِكَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلٰى كِتَابِ اللّٰهِ أَجْرًا حَتّٰى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَخَذَ عَلٰى كِتَابِ اللّٰهِ أَجْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللّٰهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ: «أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا»

وعن ابن عباس: أن نفرا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مروا بماء فيهم لديغ أو سليم فعرض لهم رجل من أهل الماء فقال: هل فيكم من راق؟ إن في الماء لديغا أو سليما فانطلق رجل منهم فقرأ بفاتحة الكتاب على شاء فبرئ فجاء بالشاء إلى أصحابه فكرهوا ذلك وقالوا: أخذت على كتاب الله أجرا حتى قدموا المدينة فقالوا: يا رسول الله أخذ على كتاب الله أجرا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله» . رواه البخاري وفي رواية: «أصبتم اقسموا واضربوا لي معكم سهما»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت کسی گھاٹ پر گزری ۱؎جس میں ایک سانپ یا بچھو کا ڈسا ہوا تھا تو گھاٹ والوں میں سے ایک شخص ان کے پاس آکر بولا کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے گھاٹ میں ایک شخص بچھو یا سانپ کا کاٹا ہوا ہے ۲؎تو صحابی میں سے ایک صاحب کچھ بکریوں کی شرط پر چلے گئے ۳؎سورۂ فاتحہ پڑھ دی وہ اچھا ہوگیا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس کچھ بکریاں لائے صحابہ نے ناپسند کیں ۴؎وہ بولے تم نے کتاباللّٰهپر اجرت لی ہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے بولے یا رسولاللّٰهانہوں نے کتاباللّٰهپر اجرت لی ہے تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یقینًا اجرت لینے کی سب سے زیادہ لائق کتاباللّٰهہے ۵؎(بخاری)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم نے ٹھیک کیا بانٹ لو اور اپنے ساتھ ہمارا حصہ بھی رکھو ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎اس گھاٹ پر کوئی قبیلہ آباد تھا،اب بھی عرب میں کنوؤں پر بستیاں آباد ہوتی ہیں جو پانی کی تجارت سے گزارہ کرتی ہیں۔عربی میں لدیغ بچھو کاٹے کو کہتے ہیں،سلیم سانپ کاٹے کو نیک فال کے لیے کہاللّٰهاسے سلامت رکھے۔
۲
؎اس سے دومسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جھاڑ پھونک دم درود کا زمانہ صحابہ میں تھا۔دوسرے یہ کہ لوگوں کو پتہ تھا کہ صحابہ کرام دم درود کرتے تھے اور قرآن شریف اور دعاؤں میں تاثیر ہے،یہ گھاٹ والے مسلمان نہ تھے جیسا کہ دوسری روایات سے معلوم ہوتاہے۔
۳
؎یعنی ان صحابی نے پہلے طے فرمالیا کہ ہم دم کردیں گے اوران شاءاللّٰهتمہارا بیمار اچھا ہوجائے گا مگر تیس بکریاں لیں گے وہ راضی ہوگئے۔یہ بھی اجارہ ہوا اسی لیے یہ حدیثباب الاجارہمیں میں لائی گئی۔اگر بغیر طے کیے یہ بکریاں تھیں تو وہ ہدیہ یا نذرانہ ہوتا نہ کہ اجرت۔
۴
؎یعنی رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَشْتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا"میر ی آیات تھوڑی قیمت کے عوض نہ فروخت کرو یہ بھی فروخت کی ایک صورت ہے لہذا یہ معاوضہ درست نہ ہوا۔
۵
؎یعنی ناجائز کام پر اجرت لینا منع ہے،قرآن کریم پڑھنا یا اس سے علاج کرنا منع نہیں تو اس کی اجرت کیوں منع ہوگی۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:(۱)قرآنی آیات سے علاج جائز ہے خواہ دم کرکے ہو یا تو تعویذ لکھ کر یا گنڈا کر کے،کہ دھاگے وغیرہ پر دم کردے اور دھاگہ مریض کے باندھے،اس علاج پر اجرت لیناجائز ہے(۲)قرآن کریم یا احادیث یا فتویٰ لکھنے کی اجرت لینا جائز ہے(۳)قرآن شریف کی تجارت درست ہے یعنی قرآن شریف فروخت کرنا ان مسائل پر سب کا اتفاق ہے(۴)قرأۃ قرآن تعلیم قرآن پر اجرت لینا درست ہے،اس میں امام ابوحنیفہ،امام زہری و اسحاق کا اختلاف ہے،رضی اللّٰہ عنہم۔ان حضرات کی دلیل اگلی حدیث ہے جو آرہی ہے،باقی آئمہ کے ہاں درست ہے۔(مرقات)مگر اب تعلیم قرآن پر اجرت بھی بالاتفاق جائز ہے،متاخرین احناف کا فتویٰ بھی یہی ہے تاکہ دین ختم نہ ہوجائے۔(اشعہ)
۶
؎معلوم ہوتا ہے کہ اب تک ان حضرات نے یہ بکریاں بانٹیں اور کھائیں نہ تھیں اور واپس بھی نہ کی تھیں کہ اب تک انہیں جائز یا ناجائز ہونے کا یقین نہ تھا۔یہ ساری بکریاں دم کرنے والے کی تھیں مگر حضور انور کا ان تمام صحابہ میں تقسیم کرانااور اپنا حصہ بھی ان میں رکھنا یہ بتانے کے لیے ہے کہ یہ بڑی طبیب اور بہترین کمائی ہے جسے ہم بھی اور ہمارے صحابہ بھی کھارہے ہیں۔اس میں اشارۃً یہ بتایا گیا کہ مسافر لوگ آپس میں مل بانٹ کر چیزیں کھائیں،اکیلے کھالینا مروت اور اخلاق کے خلاف ہے۔(از لمعات ومرقات)یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے خدام سے کچھ مانگنا نہ ناجائز،نہ اس میں کوئی ذلت،یہ تو ان خدام کے ٫
لیے باعث فخروعزت ہے۔شعر
کلاہ گوشہ دہقان بآفتاب رسید کہ سایہ برسرش افگند چوں تو سلطانے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2985