Main Icon

باب: کرایہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2990

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ رَجُلٌ أَهْدٰى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهٗ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ وَلَيْسَتْ بِمَالٍ فَأَرْمِي عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن عبادة بن الصامت قال: قلت: يا رسول الله رجل أهدى إلي قوسا ممن كنت أعلمه الكتاب والقرآن وليست بمال فأرمي عليها في سبيل الله قال: «إن كنت تحب أن تطوق طوقا من نار فاقبلها» . رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسولاللّٰهجنہیں میں کتاباللّٰهیعنی قرآن سکھاتا تھا ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان دی ہے ۱؎یہ کوئی بڑا قیمتی مال نہیں ہے اس پر میںاللّٰهکی راہ میں تیر پھینکوں گا فرمایا اگر تم آگ کا ہار پہنایا جانا پسند کرتے ہو تو اسے قبول کرلو ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک طالب علم نے مجھے بطور ہدیہ کمان دی ہے،معمولی چیز ہے اور میں نے بھی جہاد کے لیے رکھی ہے اس کی تجارت نہیں کرتا،ارشاد ہوا کہ مجھے اس کا لینا درست ہے یا نہیں اور کمان آیا تعلیم قرآن کی اجرت ہے یا کچھ اور۔
۲
؎یعنی یہ کمان بظاہر ہدیہ ہے مگر درحقیقت گزشتہ تعلیم کی اجرت ہے اور تعلیم قرآن پر اجرت لینا ممنوع ہے۔یہ حدیث حضرت امام ابوحنیفہ وغیرہم رضی اللّٰہ عنہم کی دلیل ہے کہ تعلیم قرآن پر اجرت لینا ممنوع ہے بلکہ وہ حضرات تو مطلقًا علم دین سکھانے پر اجرت منع فرماتے ہیں،متاخرین احناف نے اسے جائز فرمایا تاکہ دین ضائع نہ ہوجائے۔خیال رہے کہ پچھلی احادیث میں قرآن شریف سے علاج دم درود پر اجرت جائز فرمائی گئی تھی،یہاں تعلیم قرآن کی اجرت سے ممانعت ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں شیخ نے فرمایا کہ وہ احادیث بیان جواز کے لیے تھیں اور یہ حدیث بیان استحباب کے لیے یعنی تعلیم قرآن پر اجرت جائز تو ہے مگر بہتر نہیں یا یہ مطلب ہے کہ تم نے قرآن شریف پڑھایا تھا فی سبیلاللّٰهاس وقت تمہاری نیت اجرت کی قطعًا نہ تھی جو کاماللّٰهکے لیے کر چکے ہو اب اس پر اجرت لے کر اسے بگاڑتے کیوں ہو۔واللّٰهاعلم!مرقات نے فرمایا کہالکتابسے مراد یا تو قرآن شریف ہے یا کتابت یعنی لکھنے کی تعلیم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2990