Main Icon

باب:متفرقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2655

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهٗ فَجَاءَهٗ رَجُلٌ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. فَقَالَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. فَقَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» . فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: «اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» و أَتَاهُ آخرُ فَقَالَ: أفَضتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ»

عن عبد الله بن عمرو بن العاص: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف في حجة الوداع بمنى للناس يسألونه فجاءه رجل فقال: لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح. فقال: «اذبح ولا حرج» فجاء آخر فقال: لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي. فقال: «ارم ولا حرج» . فما سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن شيء قدم ولا أخر إلا قال: «افعل ولا حرج» (متفق عليه)وفي رواية لمسلم: أتاه رجل فقال: حلقت قبل أن أرمي. قال: «ارم ولا حرج» و أتاه آخر فقال: أفضت إلى البيت قبل أن أرمي. قال: «ارم ولا حرج»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمرو ابن عاص سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر منٰی میں لوگوں کے سامنے قیام فرمایا ۱؎لوگ آپ سے مسائل پوچھتے تھے کہ ایک آدمی حاضر ہوا عرض کیا مجھے خبر نہ تھی ذبح سے پہلے سر منڈالیا ۲؎فرمایا اب ذبح کرلو کوئی حرج نہیں پھر دوسرا آیا عرض کیا مجھے مسئلہ معلوم نہ تھا میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی فرمایا اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں ۳؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کسی چیز کے متعلق جو آگے پیچھے کردی گئی ہو سوال نہ ہوا مگر حضور نے یہ ہی فرمایا اب کرلو کوئی حرج نہیں ۴؎(مسلم بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور کی خدمت میں ایک شخص آیا عرض کیا میں نے رمی سے پہلے سر منڈالیا فرمایا اب رمی کرلوکوئی حرج نہیں دوسرا آیا عرض کیا میں نے بیت اللّٰه کا طواف رمی سے پہلے کرلیا فرمایا اب رمی کرلو کوئی حرج نہیں ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎صحیح تر یہ ہے کہحجۃکیحاورالوداعکاواؤ دونوں مفتوح ہیں، حضور انور کسی عام جگہ اپنی ناقہ پر منٰے میں اس لیے کھڑے رہے کہ لوگ حضور سے حج کے مسائل دریافت کرلیں۔معلوم ہوا کہ علماء کو ایسا وقت نکالنا چاہیے کہ لوگ ان سے مل کر مسائل پوچھ سکیں،یہ بھی سنت ہے۔
۲
؎یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد پہلے قربانی کرتا پھر سر منڈاتا مگر میں نے غلطی سے اس کے برعکس کرلیا کہ سرتو پہلے منڈالیا اور قربانی بعد میں کی یا تو مشغولیت ارکان کی وجہ سے خیال نہ رہا یا مسئلہ معلوم نہ تھا۔خیال رہے کہ اس وقت مسئلہ معلوم نہ ہونا عذر تھا کہ حج نیا نیا فرض ہوا تھا،اس کے مسائل پورے طور پر شائع نہ ہوئے تھے،اب مسائل سے بے خبر ی عذر نہیں کہ مسائل شائع ہوچکے،لوگوں پر بقدر ضرورت مسائل سیکھنا فرض ہے۔غرضکہ اب خطا تو عذر ہے جہالت عذر نہیں جیسا کہ تمام کتب میں مذکور ہے۔
۳
؎یعنی چونکہ تم نے یہ کام خطا یا بے علمی میں کیا لہذا تم پر کوئی گناہ نہیں،حرج بمعنی گناہ ہے۔
۴
؎دسویں ذی الحجہ کو حج کے افعال چار ادا ہوتے ہیں اولًا جمرہ عقبہ کی رمی،پھر قربانی،پھر سر منڈانا،پھر طواف زیارت ان چاروں ارکان میں ترتیب امام شافعی،احمد،اسحاق کے ہاں سنت ہے کہ اس کے بدل جانے سے دم واجب نہیں صرف ثواب میں کمی ہوگی مگر ابن جبیر،امام مالک و امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہم کے ہاں ان بعض میں ترتیب واجب ہے کہ بدل جانے سے دام واجب ہے۔ان بزرگوں کے ہاںلاحرجکے معنے ہیں تم پر گناہ نہیں مگر ان حضرات کے ہاں اس کے معنے ہیں تم پر فدیہ یا قربانی واجب نہیں مگر قول امام ابو حنیفہ قوی ہے کہ سیدنا عبداللّٰه ابن عباس نے بھی اسی کی مثل روایت فرمائی مگروہ ترتیب بدلنے سے قربانی واجب فرماتے ہیں ،جب راوی کامذہب یہ ہے تو معلوم ہواکہ ان کے ہاں بھی اس حدیث کے یہ ہی معنی ہیں۔(مرقات ولمعات)
۵
؎خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں رمی،ذبح،سر منڈانا ان میں ترتیب قارن اور متمتع پر واجب ہے،صاحبین کے ہاں سنت،یوں ہی قربانی حج کا صرف قربانی کے دنوں میں ہونا امام اعظم کے ہاں واجب ہے مگر حرم میں ذبح ہونا بالااتفاق واجب کہ حرم کے علاوہ اور جگہ حج کی قربانی ادا نہیں ہوسکتی مگر حلق و طواف یا رمی و طواف میں ترتیب واجب نہیں یہ فرق بہت خیال میں رہے لہذا اگر کوئی طواف پہلے کرے پھر رمی تو اس پر دم واجب نہ ہوگا،دیکھو اس کی تفصیل کتب فقہ و مرقات میں اسی جگہ۔یہ بھی خیال رہے کہ جیسے نماز کے واجب رہ جانے سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے ایسے ہی حج کا واجب رہ جانے سے دم یعنی قربانی واجب ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2655