Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 822

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأ بِفَاتِحَة ِالْكِتَابِ » (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا»

عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب » (متفق عليه) وفي رواية لمسلم: «لمن لم يقرأ بأم القرآن فصاعدا»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ۱؎(مسلم،بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کہ اس کی نماز نہیں جو سورۂ فاتحہ اور کچھ زیادہ نہ پڑھے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎احناف کے نزدیک سورۂ فاتحہ واجب ہے فرض نہیں،بعض اماموں کے نزدیک فرض ہے۔وہ حضرات حدیث کے یہ معنے کرتے ہیں کہ جو فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز صحیح نہیں،ہم اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ جو فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز کامل نہیں،یعنی لائے نفی جنس کی خبر ان کے ہاںصَحِیْحٌہے،ہمارے ہاںکَامِلٌمگر مذہب حنفی نہایت قوی ہے اور ان کا یہ ترجمہ نہایت مناسب چند وجوہ سے:ایک یہ کہ حنفی ترجمہ کی صورت میں یہ حدیث قرآن کی اس آیت کے خلاف نہ ہوگی"فَاقْرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ"اور ان بزرگوں کے ترجمہ پر یہ حدیث اس آیت کے سخت خلاف ہوگی کیونکہ قرآن سے معلوم ہورہا ہے کہ مطلقًا تلاوت کافی ہے اور حدیث کہہ رہی ہے کہ بغیر فاتحہ نماز نہیں ہوتی۔دوسرے یہ کہ اسی حدیث کے آخر میں آرہا ہے کہ جو سورۂ فاتحہ اور ساتھ کچھ اور نہ پڑھے اس کی نماز نہیں اور ان بزرگوں کے ہاں سورت ملانا فرض نہیں تو ایک ہی لفظ سے سورۂ فاتحہ فرض ماننا اور ضم سورت فرض نہ ماننا کچھ عجیب سی بات ہے۔تیسرے یہ کہ اگلی حدیث ابوہریرہ میں حنفی معنی صراحۃً آرہے ہیں کہ جو نماز میںالحمدنہ پڑھے اس کی نماز ناقص ہے اور حدیث کی شرح حدیث سے ہو تو قوی ہے،نیز حنفیوں کے نزدیک فاتحہ مطلقًا پڑھنے سے مراد مطلقًا پڑھنا ہے حقیقتًاہو یا حکمًا۔اکیلا امام حقیقتًا فاتحہ پڑھے گا اور مقتدی حکمًا کہ امام کا پڑھنا اس کا پڑھنا مانا جائے گا مگر بعض کے نزدیک یہاں حقیقتًا پڑھنا ہی مراد ہے ان کے ہاں مقتدی پربھی فاتحہ پڑھنا فرض ہے لیکن حنفیوں کی توجیہ نہایت ہی قوی ہے چند وجوہ سے:ایک یہ کہ اس صورت میں یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہ ہوگی"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا" الخ۔ان لوگوں کی تفسیر کے مطابق آیت وحدیث میں سخت تعارض ہوگا۔دوسرے یہ کہ اس صورت میں یہ حدیث مسلم شریف کی اس روایت کے خلاف نہ ہوگی "وَاِذَا قَرَءَفَانْصِتُوا"۔تیسرے یہ کہ حنفی ترجمے کے مطابق رکوع میں ملنے والا بلاتکلف رکعت پالے گا مگر ان لوگوں کو اس مسئلے پر بہت مصیبت پیش آئے گی کہ بغیر فاتحہ پڑھے رکعت کیسے پالی۔چوتھے یہ کہ بعض صورتوں میں وہ لوگ اس حدیث پرعمل نہیں کرسکتے مثلًا مقتدی فاتحہ کے بیچ میں تھا کہ امام نے رکوع کردیا اس کے لیے یہ حدیث وبال جان بن جائے گی لہذا مذہب حنفی نہایت ہی قوی ہے اور یہ حدیث ان کے بالکل خلاف نہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔
۲
؎یعنی نمازی پر سورۂ فاتحہ پڑھنا بھی واجب ہے اور اس کے ساتھ کچھ اور تلاوت بھی واجب کہ اگر ان میں سے ایک پر بھی عمل نہ کیا گیا تو نماز ناقص ہوگی،یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے۔جو لوگ اس حدیث کی بنا پر ہرنمازی پر سورۂ فاتحہ پڑھنا فرض کہتے ہیں وہفصاعدًاکے متعلق کیا کہیں گے کیونکہ ان کے ہاں سورۃ ملانا فرض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 822