Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 862

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الله الْجُهَنِيّ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ أَخْبَرَهٗ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَرَأَ فِي الصُّبْح (إِذَا زُلْزِلَتْ)فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَیْهِمَا فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَمْ قَرَأَ ذٰلِكَ عَمْدًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن معاذ بن عبد الله الجهني قال: إن رجلا من جهينة أخبره أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم : قرأ في الصبح (إذا زلزلت)في الركعتين كلتیهما فلا أدري أنسي أم قرأ ذلك عمدا. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ بن عبد الله جہنی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ جہنیہ کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی ۲؎کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فجر کی دونوں رکعتوں میں "اِذَا زُلْزِلَتِ"پڑھی ۳؎یہ مجھے خبرنہیں آیا بھول گئے یا عمدًا پڑھی۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،مدنی ہیں، ۱۱۸ھ میں وفات پائی، بہت ثقہ اور عالم تھے۔
۲
؎ان کا نام معلوم نہ ہوسکا مگر چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اس لیے صحابی کا نام معلوم نہ ہونا حدیث کو ضعیف یا مجہول نہیں کرتا۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ اس سے فجر کے فرض مراد ہیں اور حضورصلی الله علیہ وسلم کا یہ فعل شریف بیان جواز کے لیے ہے،اگرچہ افضل یہ ہے کہ فجر میں طوال مفصل میں سے کوئی سورت پڑھی جائے،نیز فرائض میں کوئی سورت مکرّر نہ ہو مگر چونکہ اس کے خلاف بھی جائز ہے اس لیے حضور نے یہ عمل کیا،غالب یہ ہے کہ آپ کا یہ عمل شریف عمدًا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 862