Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 823

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلَاثًا غَيْرُتَمَامٍ» فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَالَ اللهُ تَعَالٰى قَسَّمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ (الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ)قَالَ تَعَالٰى حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ (الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ)قَالَ اللهُ تَعَالٰى أَثْنٰى عَلَيَّ عَبْدِي وَإِذَا قَالَ (مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ) قَالَ مَجَّدَنيِْ عَبدِي وَإِذا قَالَ (إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ)قَالَ هٰذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ (اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ)قَالَ هٰذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج ثلاثا غيرتمام» فقيل لأبي هريرة: إنا نكون وراء الإمام فقال اقرأ بها في نفسك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «قال الله تعالى قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين ولعبدي ما سأل فإذا قال العبد (الحمد لله رب العالمين)قال تعالى حمدني عبدي وإذا قال (الرحمن الرحيم)قال الله تعالى أثنى علي عبدي وإذا قال (مالك يوم الدين) قال مجدني عبدي وإذا قال (إياك نعبد وإياك نستعين)قال هذا بيني وبين عبدي ولعبدي ما سأل فإذا قال (اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين)قال هذا لعبدي ولعبدي ما سأل» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو نماز پڑھے اس میںالحمدنہ پڑھے تو وہ نماز ناقص ہے(تین بار)کامل نہیں ۱؎حضرت ابوہریرہ سے کہا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں فرمایا اپنے دل میں پڑھ لو ۲؎کیونکہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سن الله تعالٰی نے فرمایا کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھوں آدھ بانٹ دیا ہے۳؎اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جو مانگے ۴؎بندہ کہتا ہے "الحمداللّٰہ رب العلمین"تو الله تعالٰی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی ۵؎جب بندہ کہتا ہے "الرحمن الرحیم" تو الله تعالٰی فرماتا ہے میرے بندے نے میری ثنا کی ۶؎اور جب کہتا ہے"مالك یوم الدین"تو رب فرماتا ہے میرے بندے نے میری بندگی بیان کی ۷؎اور جب کہتا ہے "ایاك نعبدو ایاك نستعین"تو رب فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ۸؎اور میرے بندے کے لیئے وہ ہے جو مانگے ۹؎پھرجب کہتا ہے "اھدناالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم۱۰؎غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" تو فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے ۱۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے اس نے صراحتًابتادیا کہ بغیرسورۃ فاتحہ نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ ناقص ہوتی ہے یعنی سورۂ فاتحہ نماز میں فرض نہیں بلکہ واجب ہے،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے۔
۲
؎یہ حضرت ابوہریرہ کی اپنی رائے ہے اسی لیے آپ اس پر کوئی حدیث مرفوع پیش نہیں فرماتے بلکہ ایک حدیث سے اس مسئلے کا استنباط کرتے ہیں ان کی رائے پر ہر جگہ عمل نہیں ہوسکتا،بعض جگہ بہت دشواریاں پیش آئیں گی مثلًا یہ کہ مقتدی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھ رہا تھا یہ ابھی بیچ میں تھا کہ امام نے کہا "وَلَاالضَّآلِّیۡنَ"اب یہ بے چارہ اٰمِیْنکہے یا نہیں یا مقتدی بیچ فاتحہ میں تھا کہ اما م نے رکوع کردیا یہ مقتدی رکوع میں جائے یا نہیں وغیرہ۔ خیال رہے کہ حضرت ابوہریرہ کا یہ ارشاد پہلے کا ہے بعد میں خود انہیں نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب امام قرأت کرے تو خاموش رہو جیسا کہ مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ میں ہے اور مشکوٰۃ شریف میں اس باب میں آرہا ہے، لہذا یہ قول خود ان کے اپنے نزدیک متروک ہے یا اس کے معنی یہ ہیں کہ سورۂ فاتحہ کے معنی و مطالب دل میں سوچو ان پر غور کرو کیونکہ پڑھنا زبان سے ہوسکتا ہے، دل میں سوچنا ہوتا ہے نہ کہ پڑھنا۔(ازمرقات)اس صورت میں حدیث بالکل ظاہر ہے کسی توجیہ کی ضرورت نہیں۔
۳
؎یہاں نماز سے مراد سورۂ فاتحہ ہے یعنی جب سورۂ فاتحہ اتنی اہم ہے کہ اسے حضورصلی الله علیہ وسلم نے عین نماز فرمایا تو چاہیے اس کا پڑھنا یا اس میں غور کرنا بہت ضروری ہے۔خیال رہے کہاَلْحَمْدکی سات آیتیں ہیں۔پہلی تین آیتیں"مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِ"تک الله کی حمد ہیں اور آخری تین آیتیںاِہۡدِنَاسے "وَلَا الضَّآلِّیۡنَ"تک دعا،درمیان کی آیت "اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُ" آدھی ثنا ہے آدھی دعا،لہذا یہ فرمان بالکل درست ہے کہالحمدآدھی آدھی بٹی ہوئی ہے۔
۴
؎یعنی سورۂ فاتحہ آدھی دعا ہے تو جو بندہ اسے پڑھے میں اس کی دعا ضرور قبول کروں گا یا بعینہ اس کا سوال پورا کروں گا یا اس کی مثل اور نعمتیں دوں گا یا اس سے کوئی آفت ٹال دوں گا جیساکہ قبولیت دعاء کا قانون ہے۔
۵
؎یعنی ادھر بندہالحمدپڑھ کر رب کی حمدکرتا ہے ادھر رب تعالٰی فرشتوں سے یہ فرماتا ہے۔یہ بندے کی خوش نصیبی ہے کہ اس کی تھوڑی سی زبان کی حرکت سے اس کا نام رب کی بارگاہ میں اس عزت سے آجائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہبسم اللهسورۂ فاتحہ کا جز نہیں کیونکہ یہاںالحمدسے ذکر شروع ہوابسم اللهکا ذکر نہ ہوا لہذا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے۔
۶
؎یہ خطاب بھی حاضرین بارگاہ فرشتوں سے ہے جو رب تعالٰی بطور فخر و اظہار خوشی فرماتاہے،ثناء و حمد قریبًا ایک ہی ہیں۔ہوسکتا ہے کہ حمد سے ظاہری کمالات کا بیان ہو اور ثنا سے مراد پوشیدہ کمالات کا اظہار یا حمد سے مراد شکر ہو اورثناء سے مراد مطلقًا تعریف۔
۷
؎یعنی میری ایسی بڑائی بیان کی جو میرے سوا کسی کو حاصل نہیں کیونکہ قیامت کے دن کی بادشاہی صرف رب تعالٰی کی صفت ہے۔
۸
؎کیونکہ عبادت الله کے لیے ہے اور استعانت یعنی مدد بندے کے لیے ہے لہذا یہ آیت رب و بندے کے درمیان ہے۔
۹
؎یعنی بندے اپنے ہر کام میں خصوصًا عبادات میں مجھ سے مدد مانگ رہا ہے میں اس کی ضرور مدد کروں گا،اس کے بعدبھی جو دعائیں مانگے گا قبول کروں گا۔
۱۰
؎یعنی خدایا مجھے اس راستہ کی ہدایت دے جو تیرے انعام والے بندے کا راستہ ہے،اولیاء،صالحین،شہید اور صدیقین کا۔معلوم ہوا کہ وہ دین حق ہے جس میں اولیاء الله ہوں،وہ صرف اہلِ سنت والجماعت کا دین ہے کہ ان کے سوا کسی فرقہ میں اولیاء الله نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ"انعمت علیہم"پر وقف ہے ورنہ فاتحہ کی آیات سات نہ ہوں گی کیونکہ یہاںبسم اللهکوالحمدمیں شامل نہیں کیا گیا،لہذا یہ حدیث احناف کی دلیل ہے۔
۱۱
؎یعنی جو کچھ اس سورت میں مانگے اور جو اس کے بعد مانگے وہ سب اسے دوں گا،بعض مشائخ کا طریقہ ہے کہ وہ دعا کرتے وقتالحمدشریف پڑھا کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 823