Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 825

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهٗ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهٗ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ»مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: (غَيْرِ المَغْضُوْبِ عَلَيْهِم وَلَا الضَّالِّيْنَ)فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّهٗ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهٗ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ هٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهٗ وَفِيْ أُخْرٰى لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: «إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهٗ تَأْمِيْنَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ»

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أمن الإمام فأمنوا فإنه من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه»متفق علیہ وفي رواية قال: إذا قال الإمام: (غير المغضوب عليهم ولا الضالين)فقولوا: آمين فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه هذا لفظ البخاري ولمسلم نحوه وفي أخرى للبخاري قال: «إذا أمن القارئ فأمنوا فإن الملائكة تؤمن فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب امامآمینکہے تو تم بھیآمینکہو جس کیآمینفرشتوں کیآمینکے موافق ہوگی تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جب امام کہے "غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین"تو تم کہوآمین۲؎جس کا کلام فرشتوں کے کلام کے موافق ہو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۳؎یہ بخاری کے لفظ ہیں اور مسلم کے نزدیک اس کی مثل اور بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا جب قاریآمینکہے تو تم بھیآمینکہو کیونکہ فرشتے بھیآمینکہتے ہیں جس کیآمینموافق ہوگی فرشتوں کیآمینکے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نماز میںالحمدکے ختم پر امام بھیآمینکہے گا۔دوسرے یہ کہ ہماری حفاظت کرنے والے اور نامۂ اعمال لکھنے والے فرشتے نمازوں میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیںولا الضالینپرآمینکہتے ہیں۔تیسرے یہ کہآمینبالکل آہستہ کہنی چاہیے کیونکہ فرشتے آہستہ ہیآمینکہتے ہیں جو ہم نہیں سنتے اگر ہمآمینچیخ کر کہیں تو ہماریآمینفرشتوں کیآمینکے خلاف ہوگی پھر ہماری بخشش کیسے ہو۔چوتھے یہ کہ رب کی بارگاہ میں وہی نیکی قبول ہوتی ہے جو نیک بندوں کی طرح ہو ان کی نقل پیاری ہے۔دیکھو فرمایا گیا کہ جس کیآمینفرشتوں کی سی ہوگی اس کی مغفرت ہوگی۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ مقتدیالحمدنہ پڑھے کیونکہ فرمایا گیاکہ جب امامولا الضالینکہے تو تمآمینکہو یہ نہ فرمایا کہ جب تمولا الضالینکہو توآمینکہو۔لہذا یہ حدیث احناف کی دلیل ہے۔
۳
؎فقیر کو آہستہآمینکی چھبیس۲۶ حدیثیں اور دو آیتیں ملیں مگر نماز میں بالجہرآمینکی کوئی صریح حدیث نہ ملی جس میں نماز کا ذکر ہوا اور لفظ جہر ہو۔اس کی پوری بحث فقیر کی کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔آمیندعا ہے(قرآن کریم)اور دعا آہستہ مانگنی چاہیے(قرآن کریم)احادیث میں جہاںآمینسے مسجد گونجنے کا ذکر ہے وہاں نماز کا ذکر نہیں اور جہاں نماز کا ذکر ہے وہاں جہر نہیں بلکہ "مدبھا صوتہ"ہے یا"رفع بھا صوتہ" جس کے معنی ہیںآمینآواز کھینچ کر کہی۔
۴
؎خیال رہے کہ ان جیسی تمام حدیث میں موافقت سے مراد کیفیت میں موافقت ہے نہ کہ وقت میں کیونکہ فرشتوں کی آمین کہنے کا تو یہی وقت ہے جب امامولاالضالینکہتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ جس کیآمینفرشتوں کیآمینجیسی ہوگی اسکی بخشش ہوگی یعنی جیسے فرشتے آہستہآمینکہتے ہیں ایسے یہ بھی آہستہ کہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 825