Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 837

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ (الْمُؤْمِنِينَ) حَتّٰى جَاءَ ذِكْرُ مُوسٰى وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسٰى أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُعْلَةٌ فَرَكَعَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبد الله بن السائب قال: صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح بمكة فاستفتح سورة (المؤمنين) حتى جاء ذكر موسى وهارون أو ذكر عيسى أخذت النبي صلى الله عليه وسلم سعلة فركع. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت عبد الله ابن سائب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مکہ میں نماز فجر پڑھائی ۲؎سورۂ مؤمنون شروع کی حتی کہ موسیٰ و ہارون کا ذکر یا عیسیٰ کا ذکر آیا تو نبی صلی الله علیہ وسلم کو کھانسی آگئی تورکوع فرمادیا۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ آپ قبیلہ بنی مخذوم سے ہیں،اہل مکہ کے قرأت قرآن میں استاذ ہیں،حضرت ابی ابن کعب کے شاگرد ہیں،بہت صحابہ نے آپ سے احادیث روایت کیں۔
۲
؎ فتح مکہ کے دن جیسا کہ نسائی شریف کی حدیث میں ہے لہذا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا نہیں جیسا کہ بعض نے سمجھا،یعنی آپ قرأت زیادہ کرنا چاہتے تھے مگر درمیان میں کھانسی آجانے کی وجہ سے رکوع فرمادیا کہ اگر امام کودوران نماز میں کوئی حادثہ پیش آجاوے جس سے وہ دراز قرأت نہ کرسکے تو رکوع کردے ،اس سے بہت مسائل مستنبط ہوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 837