Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 861

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ أَصْحَابِهٖ فَقَرَأَ عَلَيْهِم سُورَةَ الرَّحْمٰنِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلٰى آخِرِهَا فَسَكَتُوا فَقَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَی الجِنِّ فَكَانُوا أَحْسَنَ مَرْدُودًا مِنْكُمْ كُنْتُ كُلَّمَا أَتَيْتُ عَلٰى قَوْلِهٖ (فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)قَالُوا لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن جابر قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم علی أصحابه فقرأ عليهم سورة الرحمن من أولها إلى آخرها فسكتوا فقال: «لقد قرأتها علی الجن فكانوا أحسن مردودا منكم كنت كلما أتيت على قوله (فبأي آلاء ربكما تكذبان)قالوا لا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جماعت صحابہ میں تشریف لائے تو ان کے سامنے اول سے آخر تک سورہ ٔالرحمٰنپڑھی ۱؎صحابہ خاموش رہے ۲؎تو حضور نے فرمایا کہ میں نے یہ سورت شب جن میں۳؎جنات پر پڑھی تو وہ تم سے اچھے جواب دینے والے تھے میں جب اس قول پر پہنچا "فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ"تو کہتے نہیں اے مولا ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تعریف ہے ۴؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز کے علاوہ۔اس سے معلوم ہوا کہ دوستوں سے ملاقات کے وقت قرآن شریف پڑھنا اور سننا سنت ہے،عرب شریف میں اب بھی یہ دستور ہے۔
۲
؎کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ تلاوت قرآن کے وقت خاموشی فرض ہے،قرآن کی یہ آیت ان کے سامنے تھی "وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ" الخ۔
۳
؎جب کہ جنات وفد کی شکل میں ایمان لانے کے لیے حضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔یہ واقعہ کئی بار ہوا ہے ان میں سے کسی ایک رات میں حضورصلی الله علیہ وسلم نے انہیں سورۂ رحمان سنائی۔
۴
؎یعنی جب حضورصلی الله علیہ وسلم یہ آیت پڑھ کر خاموش ہوتے تب وہ یہ عرض کرتے نہ کہ عین تلاوت کی حالت میں،لہذا ان کا یہ عمل حکم قرآنی کے خلاف نہ تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن سنتے وقت رونا،جھومنا اورکچھ پیارے کلمات کہنا جو مضمون آیت کے مطابق ہوں بہت بہتر ہے مگر یہ سب کچھ قاری کی خاموشی کی حالت میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 861