Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 845

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم قَرَأَ:(غَيْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَآ الضَّالِّيْن) فَقَالَ: اٰمِينَ مَدَّ بِهَا صَوْتَهٗ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدَارمِيْ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن وائل بن حجر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قرأ:(غيرالمغضوب عليهم ولا الضالين) فقال: امين مد بها صوته. رواه الترمذي وأبو داود والدارمي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے پڑھا "غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ" تو کہاآمیناپنی آواز کھینچ کر ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی اور ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے نمازمیں اونچیآمینکہنا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا چند وجہ سے:ایک یہ کہ یہاں نماز کا ذکرنہیں،ممکن ہے کہ نماز کے علاوہ یہ تلاوت اورآمینہوئی ہو۔دوسرے یہ کہ یہاں"مَدَّبِھَاصَوْتَہٗ" ہےمَدَّکے معنی چیخنا نہیں بلکہ اس کے معنی ہیں کھینچنا،دراز کرنا،اس کا مقابل قصر ہے اسی لیے مہلت دینے،ڈھیل دینےکومدّکہا جاتا ہے،رب فرماتا ہے: "وَیَمُدُّھُمْ فِیۡ طُغْیٰنِہِمْ"یعنی حضورصلی الله علیہ وسلمآمینکا الف اور میم مدّ کے ساتھ پڑھتے تھے،بروزن قالین قصر سے نہیں جیسے کریم،یہی معنی ظاہر ہیں۔تیسرے یہ کہ امام احمد،دار قطنی،حاکم،مستدرک،طبرانی،ابو داؤد طیالسی،ابو یعلیٰ موصلی نے انہی وائل ابن حجر سے روایت کی کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے نماز میں جب "وَلَا الضَّآلِّیۡنَ"پڑھا تو "قَالَ اٰمِیْن وَ اَخْفیٰ بِھَا صَوْتَہٗ"۔اور ابو داؤد و ترمذی،ابن ابی شیبہ نے انہی وائل ابن حجر سے روایت کی "وَخَفَضَ بِہَا صَوْتَہٗاَخْفیٰکے معنی ہیں آہستہ پڑھا اورخَفَضَکے معنی ہیں پست آواز سے پڑھا تو اب یہاںمَدَّکے ایسے معنی کرنے چاہیں جو وہاں کےاَخْفٰیاورخَفَضَکے خلاف نہ ہوں یعنی آواز کھینچی اس لیے یہاںجَھَرَنہیں بلکہمَدَّآیا کیونکہاَخْفَاءکا مقابلمَدَّنہیں بلکہ جہر ہے رب فرماتا ہے:"یَعْلَمُ الْجَہۡرَ وَمَایَخْفٰی"۔جن احادیث میں "رَفَعَ بِہَا صَوْتَہٗ"ہے وہاں بھی "رَفَعَ مَدَّ"کا ترجمہ ہے ا ور یہی معنی ہیں کہ آواز کھینچ کر پڑھا۔غرض کہ ایسی حدیث آج تک نہ مل سکی جس میں نمازکا ذکر ہو اورآمینکے لیے لفظ جہر ہو،نیز اونچیآمینکہناحکمِ قرآن کے خلاف ہے کیونکہآمینقرآن کی آیت نہیں بلکہ دعا ہے،رب فرماتا ہے:"قَدْ اُجِیۡبَتۡ دَّعْوَتُکُمَا"اوردعا آہستہ کہنی چاہیے،رب فرماتا ہے:"اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً" اسکی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 845