Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 863

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلّٰى الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهِمَا (سُورَةِ الْبَقَرَةِ)فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن عروة قال: إن أبا بكر الصديق رضي الله عنه صلى الصبح فقرأ فيهما (سورة البقرة)في الركعتين كلتيهما. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عروہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے فجر پڑھی تو دونوں رکعتوں میں سورۂ بقر پڑھی ۲؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عروہ بن زبیر ہیں،قریشی ہیں،اسدی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،مدینہ کے بڑے فقیہ اورمحدث ہیں،صائم الدہر تھے،صدیق اکبر کے نواسے ہیں،حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کے فرزند،۲۲∞ ھ میں ولادت ہوئی، ۹۴ھ میں وفات پائی، آپ کا ایک باغ اور کنواں مدینہ منورہ میں اب تک مشہور ہے لوگ برکت کے لیے اس کا پانی پیتے ہیں۔ فقیر نے بھی وہاں حاضری دی ہے، بیر عروہ کے نام سے مشہور ہے۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ آپ نے کچھ رکوع رکعت اول میں پڑھے اور کچھ دوسری رکعت میں اور ہوسکتا ہے کہ پوری سورۂ بقر پڑھی، آدھی پہلی رکعت میں اور آدھی دوسری میں۔ یہ بھی بیان جواز کے لیے ہے ورنہ فجر کی نماز میں چالیس سے ساٹھ آیتوں تک پڑھنا مستحب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 863