Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 865

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: صَلَّينَا وَرَاءَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الصُّبْحَ فَقَرَأَ فيهمَا بِسُورَةِ يُوسُفَ وَسُورَةِ الْحَجِّ قِرَاءَةً بَطِيئَةً قِيلَ لَهٗ : إِذًا لَقَدْ كَانَ يَقُومُ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ قَالَ: أَجَلْ. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن عامر بن ربيعة قال: صلينا وراء عمر بن الخطاب الصبح فقرأ فيهما بسورة يوسف وسورة الحج قراءة بطيئة قيل له : إذا لقد كان يقوم حين يطلع الفجر قال: أجل. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عامرابن ربیعہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر ابن خطاب کے پیچھےفجرپڑھی تو آپ نے ان دو رکعتوں میں نہایت آہستہ سورۂ یوسف اور سورۂ حج پڑھی ۲؎ان سے کہا گیا کہ تب تو آپ فجرچمکتے ہی کھڑے ہوجاتے ہوں گے فرمایا ہاں ۳؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہورصحابی ہیں،عمر فاروق سے پہلے ایمان لائے، دوہجرتوں کے مہاجر ہیں،بدر اور تمام غزوات میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے۳۲ ∞ھ یا۳۵ھ میں وفات پائی۔۲؎یعنی پہلی رکعت میں پوری سورۂ یوسف اور دوسری میں پوری سورۂ حج جیسا کہ اگلے کلام سے معلوم ہورہا ہے اور یقینًا آپ نے سورۂ حج کا سجدہ بھی ادا کیا ہوگا۔اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی کہ اب سوا تراویح کے اور نمازوں میں عوام کے ساتھ آیتِ سجدہ نہیں پڑھنی چاہیے۔
۳
؎کیونکہ اتنی لمبی سورتیں پوری جب ہی پڑھی جاسکتی ہیں جب کہ وقت زیادہ ملے۔خیال رہے کہ بعض آئمہ کے ہاں مستحب یہ ہے کہ فجر اندھیرے میں شروع کرے اور اجیالے میں ختم کرے،یہ حدیث ان کی دلیل ہے،ہمارےہاں شروع بھی اجیالے میں کرے اور ختم بھی۔حضرت فاروق اعظم کا یہ فعل اتفاقی ہے اور بیان جواز کے لیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 865