Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 854

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كُنَّا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَرَأَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «لَعَلَّكُمْ تَقْرَؤُوْنَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ» قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ . قَالَ: «لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهٗ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَلِلنِّسَائِيِّ مَعْنَاهُ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ قَالَ: «وَأَنَا أَقُولُ مَالِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنُ فَلَا تَقْرَؤُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ»

وعن عبادة بن الصامت قال: كنا خلف النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الفجر فقرأ فثقلت عليه القراءة فلما فرغ قال: «لعلكم تقرؤون خلف إمامكم» قلنا: نعم يا رسول الله . قال: «لا تفعلوا إلا بفاتحة الكتاب فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها» . رواه أبو داود والترمذي وللنسائي معناه وفي رواية لأبي داود قال: «وأنا أقول مالي ينازعني القرآن فلا تقرؤوا بشيء من القرآن إذا جهرت إلا بأم القرآن»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ ہم نماز فجر میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے پیچھے تھے آپ نے قرأت کی آپ پر قرأت بھاری ہوگئی جب فارغ ہوئے تو فرمایا شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو ہم نے کہا ہاں یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ۱؎آپ نے فرمایا کہ سواء سورۂ فاتحہ کے کچھ نہ پڑھا کروکیونکہ جو فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۲؎(ابوداؤد)اور(ترمذی)نسائی نے اس کے معنی کی روایت کی۔ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا کہ میں دل میں سوچتا تھا کہ مجھ پر قرآن کیوں بھاری پڑرہا ہے لہذا جب میں آواز بلند سے قرأت کروں توالحمدکے سوا کچھ نہ پڑھو۳؎

شرح حدیث

۱∞؎ معلوم ہوا کہ مقتدی کی غلطی کا امام پر اثر پڑتا ہے۔دیکھو مقتدیوں نے اپنے دل میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کی جس کا اثر یہ ہوا کہ حضور کو لقمہ لگ گیا جیسے اگر مقتدی کی طہارت درست نہ ہو تو امام کو لقمہ لگتا ہے۔
۲
؎یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے جو امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں کیونکہ اس میں صراحتًامقتدیوں کو امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا گیا لیکن اس میں چند طرح گفتگو ہے:ایک یہ کہ یہ حدیث ابوہریرہ کی حدیث کے خلاف ہے جو ابھی اس کے بعد آرہی ہے جس میں جہری نمازوں میں مقتدی کو مطلقًا قرأت سے منع کردیا گیا۔دوسرے یہ کہ حدیث حضرت جابر،علقمہ،عبد الله ابن مسعود،عبد الله ابن عباس،زید ابن ثابت،عبد الله ابن علی،علی مرتضیٰ،حضرت عمر کی ان احادیث کے خلاف ہے جن میں امام کے پیچھے مطلق خاموشی کاحکم دیا گیا ہے۔تیسرے یہ کہ یہ حدیث حکم قرآنی کے بھی خلاف ہے،رب نے فرمایا:"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا"۔چوتھے یہ کہ اس حدیث کے متعلق امام ترمذی نے فرمایا کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس میں صرف اتنا ہے "لَاصَلوٰۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَءْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ" یعنی اس میں مقتدی کا ذکر نہیں لہذا یہ حدیث ناقابل عمل ہے یا منسوخ ہے۔
۳
؎یہ الفاظ بظاہر ہمارے مخالفین کے بھی خلاف ہیں کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جہری نماز میں میرے پیچھے صرفالحمدپڑھا کرو اور اخفا کی نماز میںالحمداور سورت سب پڑھ لیا کرو حالانکہ وہ حضرات بھی مقتدی کو سورت پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 854