Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 839

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِيْ رَافِعٍ قَالَ: اِسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَی المَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلٰى مَكَّةَ فَصَلّٰى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ فَقَرَأَ سُورَةَ (الْجُمُعَةِ)فِي السَّجْدَةِ الْأُولٰى وَفِي الْآخِرَةِ: (إِذا جَاءَكَ المُنَافِقُونَ)فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبيد الله بن أبي رافع قال: استخلف مروان أبا هريرة علی المدينة وخرج إلى مكة فصلى لنا أبو هريرة الجمعة فقرأ سورة (الجمعة)في السجدة الأولى وفي الآخرة: (إذا جاءك المنافقون)فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ بهما يوم الجمعة. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید الله ابن ابی رافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ کو مدینہ منورہ پر اپنا خلیفہ بنایا اور خود مکہ معظمہ چلا گیا ۲؎تب ہمیں حضرت ابوہریرہ نے جمعہ پڑھایا ۳؎تو پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ پڑھی اور دوسری میں "اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُوۡنَ"پھر فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہ سورتیں پڑھتے سنا۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مدنی ہیں،مشہور تابعین میں سے ہیں،حضرت علی مرتضٰی کے کاتب تھے،آپ کے والد ابو رافع حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
۲
؎یعنی جب مروان مدینہ منورہ کا حاکم تھا تو ایک دفعہ اپنے زمانۂ حکومت میں خود حج کرنے گیا اور اپنی جگہ حضرت ابوہریرہ کو حاکم مدینہ بنایا گیا تب یہ واقعہ پیش آیا۔
۳
؎یعنی مروان اپنی موجودگی میں خود جمعہ پنجگانہ پڑھایا کرتا تھا کیونکہ امامت کا حق سلطانِ اسلام یا اس کے نائب کو ہے،جب حضرت ابوہریرہ حاکم اسلام مقرر ہوئےتب آپ نے جمعہ پڑھایا۔
۴
؎آپ جمعہ میں کبھی کبھی یہ سورتیں بھی پڑھتے تھے یہاں ہمیشگی کا ذکر نہیں لہذا یہ حدیث دیگر احادیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 839