Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 856

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمْرَوَالْبِيَاضِي قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهٗ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ بِهٖ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلیٰ بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن ابن عمروالبياضي قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن المصلي يناجي ربه فلينظر ما يناجيه به ولا يجهر بعضكم علی بعض بالقرآن» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر اور بیاضی سے وہ دونوں کہتے ہیں ۱؎کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نمازی اپنے رب سے مناجات کرتا ہے تو چاہیے کہ غور کرے کہ اس سے کیا مناجات کرتا ہے ۲؎اور بعض بعض پر قرآن اونچا نہ پڑھے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبد الله ابن جابر،انصاری،خزرجی،بیاضی ہے،قبیلہ بیاضیہ ابن عامرابن زریق کی طرف منسوب ہیں۔صحیح یہ ہی ہے کہ آپ صحابی ہیں۔
۲
؎یعنی نماز مومن کی معراج ہے اور بحالت نماز مومن رب سے کلام کرتا ہے۔تو جو تلاوت قرآن کرے یا دوسرے اذکار کرے،اس میں غور کرے،دل لگا کر نماز پڑھے کہ نماز کی قبولیت دل لگنے پر ہے۔
۳
؎یعنی چند مسلمان مل کر بلند آواز سے قرآن نہ پڑھیں یا ایک آدمی اونچی تلاوت کرے،باقی سنیں یا سب آہستہ پڑھیں۔خیا ل رہے کہ بچوں کا مل کر اونچی آواز سے قرآن پاک یاد کرنا اس حکم سے خارج ہے کہ وہاں تلاوت قرآن نہیں بلکہ تعلیم قرآن ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ اگرچہ بعض اماموں نے مقتدیوں کوالحمدپڑھنے کا حکم دیالیکن اسے اونچا پڑھنے کی کسی نے اجازت نہ دی اسی حدیث کی وجہ سے،نیز سب کے بلند آواز سے پڑھنے میں قرآن کریم کی بے ادبی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 856