Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 826

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيُؤَمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوْا وَإِذَا قَالَ (غَيْرِ المَغْضُوْبِ عَلَيْهِم وَلَا الضَّالِّيْنَ)فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «فَتِلْكَ بِتِلْكَ» قَالَ: «وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ فَقُولُوا اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللهُ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قال (غير المغضوب عليهم ولا الضالين)فقولوا آمين يجبكم الله فإذا كبر وركع فكبروا واركعوا فإن الإمام يركع قبلكم ويرفع قبلكم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «فتلك بتلك» قال: «وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد يسمع الله لكم» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم نماز پڑھو تو صفیں سیدھی کرو پھر تم میں سے کوئی تمہارا امام بن جائے ۱؎جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب کہے "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین"تو تمآمینکہو الله تمہاری قبول کرے گا ۲؎پھر جب تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا ا ور تم سے پہلے سر اٹھائے گا حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کے بدلے میں ہوا ۳؎اور جب کہے "سمع الله لمن حمدہ"تو تم کہو "اللھم ربنالك الحمد" الله تمہاری سنے گا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ان اصحاب سے خطاب ہے جو سب عالم و فقیہ تھے،یعنی جب تم ایسی جگہ ہو جہاں کوئی امام مقرر نہ ہو تو چونکہ تم سب علماء فقہاء ہو لہذا تم میں سے کوئی بھی امام بن جائے،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جہاں فرمایا گیا کہ امام وہ بنے جو سب سے زیادہ عالم یا قاری ہو۔
۲
؎یعنی اسآمینکی برکت سے تمہاریالحمدوالی تمام دعائیں قبول ہوں گی یا جب تم سب مل کرآمینکہو گے تو قبول ہوگی کیونکہ جماعت کی نماز و دعائیں اگر ایک کی قبول ہوجائیں تو سب کی قبول ہوتی ہے اسی لیے دعا اور عبادات کے لیئے جماعات تلاش کرتے رہو۔
۳
؎یعنی تمام حرکات و سکنات میں تم امام کے پیچھے رہو کہ امام جب رکوع میں پہنچ جائے تو تم رکوع میں جھکو اور جب رکوع سے سیدھا کھڑا ہوجائے تو تم اٹھو،امام رکوع میں تم سے پہلے پہنچے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا تو ایک لحظہ رکوع میں تم پیچھے پہنچو گے اور ایک لحظہ بعد میں اٹھو گے وہ کمی اس زیادتی سے پوری ہوکر تمہارا اور امام کا رکوع برابر ہوجائے گا،سارے ارکان کا یہی حال ہے۔
۴
؎یعنی جماعت میں امام صرف "سَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَہ" کہے اور مقتدی صرف "رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد" کہے لہذا یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے،بعض روایات میں صرف "رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد" ہے، بعض میںاَللّٰھُمَّبھی ہے،امام شافعی رحمۃ الله علیہ کے ہاں مقتدی دونوں کلمے کہے یہ حدیث انکے خلاف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 826