Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2678

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَايَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: «لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَيَلْبَسُ خُفَّيْنِ وليقطعهما أَسْفَل الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهٗ زَعْفَرَانٌ وَلَا وَرْسٌ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ: «وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازينِ»

عن عبد الله بن عمر: أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم: مايلبس المحرم من الثياب؟ فقال: «لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فيلبس خفين وليقطعهما أسفل الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه زعفران ولا ورس» . (متفق عليه)وزاد البخاري في رواية: «ولا تنتقب المرأة المحرمة ولا تلبس القفازين»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمر سے کہ ایک شخص نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ محرم کون سے کپڑے پہنے ۱؎تو فرمایا کہ نہ قمیص پہنو،نہ پگڑیاں،نہ پائجامے اور نہ ٹوپیاں ۲؎نہ موزے بجز اس کے جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اورا نہیں ٹخنوں کے نیچے کاٹ لے ۳؎اور نہ وہ کپڑے پہنو جنہیں زعفران لگا ہو نہ وہ جنہیں ورس لگا ہو ۴؎(مسلم،بخاری) اور ایک روایت میں بخاری نے زیادہ کیا کہ محرمہ عورت منہ پر نقاب نہ ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎سائل کو سوال کرنا نہ آیا پوچھنے والی بات یہ تھی کہ کون سے کپڑے نہ پہنے،اس لیے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے نہ پہننے والے کپڑے بتائے جواب حکیمانہ دیا۔
۲
؎چونکہ روئے سخن مرد حجاج کی طرف ہے اس لیے پگڑی وہ ٹوپی کا بھی ذکر فرمایا،مطلب یہ ہے کہ مرد حاجی سلا کپڑا نہ پہنے اور نہ سر ڈھکے ان دونوں حکموں سے عورتیں علیحدہ ہیں۔ پہننے سے مراد عادت کے مطابق پہننا ہے پائجاموں میں پاؤں ڈال کر اور قمیص کی آستینوں میں ہاتھ ڈال کر،اگر کوئی محرم تہبند کی طرح پائجامہ لپیٹ لے اور چادر کی طرح قمیص اوڑھ لے تو جائزہے کہ یہ لبس یعنی پہننا نہیں۔برنسایک خاص قسم کی لمبی ٹوپی کو کہتے ہیں جو پہلے مروج تھی مگر یہاں مطلقًا سر ڈھکنے والی چیز مراد ہے لہذا محرم سر پر کپڑا،چادر، دوپٹہ بھی نہیں ڈال سکتا جب وہ سر سے متصل ہو،ہاں چھتری لگانا،خیمہ میں بیٹھنا درست ہے کہ چھتری اور خیمہ کی چھت سر سے علیحدہ رہتی ہے۔
۳
؎احناف کے ہاں یہاںکعبینسے مراد درمیان قدم پر ابھری ہوئی سخت ہڈی ہے اس کا کھلا رہنا ضروری ہے اور ڈھانپنا منع،شوافع کے ہاں وہ ہی عرفی ٹخنے یعنی قدم کے آس پاس کی دو ہڈیاں مراد ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ محرم کو بحالت احرام نہ موزہ پہننا درست ہے،نہ ایسا جوتا یا بوٹ جس سے وسط قدم کی ہڈی ڈھک جائے۔خفینچمڑہ کے موزے کو کہتے ہیں،سوتی یا اونی موزے کو جرابیں کہا جاتا ہے وہ ممنوع نہیں۔مطلب یہ ہے کہ اگر حاجی کے پاس جوتے نہ ہوں تو چمڑے کے موزے کو کاٹ کر جوتے کی طرح بنالے پھر پہن لے۔
۴
؎چونکہ پہلا حکم صرف مردوں کو تھا اور یہ حکم مرد و زن سب کو اسی لیےلا تلبسوامکرر ارشاد ہوا اور ورس عرب کی ایک مشہور گھاس ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں،اس کا رنگ بھی زعفران کی طرح پیلا ہوتا ہے،یعنی کوئی محرم مرد ہو یا عور ت زعفران یا ورس میں رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے،یہاں پہننے سے مراد استعمال کرنا ہے لہذا اس رنگ کی چادر،تہبند بھی استعمال نہیں کرسکتا۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ محرم عورت سر پر کپڑا ڈال سکتی ہے مگر منہ پر نقاب نہیں ڈال سکتی،جب کہ نقاب منہ سے متصل ہو،اگر منہ سے دور رہے تو جائز ہے،ایسے ہی اگر پنکھا وغیرہ آڑ کرکے منہ چھپالے تو کوئی بھی حرج نہیں جیسے مرد کے سر کے لیے چھتری یا جبہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2678