Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2683

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشَّيْخُ الإِمَامُ مُحْيي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللّٰهُ وَالْأَكْثَرُونَ عَلٰى أَنَّهٗ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا وَظَهَرَ أَمْرُ تَزْوِيجِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ بَنٰى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ بِسَرِفَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ

وعن يزيد بن الأصم ابن أخت ميمونة عن ميمونة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجها وهو حلال. رواه مسلم قال الشيخ الإمام محيي السنة رحمه الله والأكثرون على أنه تزوجها حلالا وظهر أمر تزويجها وهو محرم ثم بنى بها وهو حلال بسرف في طريق مكة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یزید ابن الاصم سے جو حضرت میمونہ کے بھانجے ہیں ۱؎وہ جناب میمونہ سے راوی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت میمونہ سے بحالت حلال نکاح کیا ۲؎(مسلم)حضرت شیخ امام محی السنہ فرماتے ہیں کہ اکثر علماء اس پر ہیں کہ حضور انور نے ان سے نکاح تو بحالت حلال کیا مگر بحالت احرام نکاح کا حال کھلا پھر مکہ معظمہ کے راستہ میں مقام سرف میں آپ سے زفاف حلال ہو کر کیا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یزید ابن اصم بھی حضرت میمونہ کے بھانجے ہیں اور حضرت ابن عباس بھی مگر یزید ابن اصم تابعی اور ابن عباس فقیہ صحابی ہیں لہذا یزید ابن اصم سن کر فرمارہے ہیں اور حضرت ابن عباس وہ نکاح دیکھ کر کیونکہ وہ خود اس نکاح میں موجود تھے،ان کے والد حضرت عباس وکیل نکاح تھے،یہ نہیں خبر کہ یزید ابن اصم نے یہ واقعہ کس کس سے سنا،خود حضرت میمونہ سے یا کسی اور سے،انہوں نے حضرت میمونہ سے یہاںعن میمونہہےسمعت میمونۃنہیں ہے۔
۲
؎تزوّجسے مراد تیاری نکاح ہے اور حلال سے مراد احرام سے پہلے کا حل ہے یعنی احرام باندھنے سے پہلے بحالت حل تیاری نکاح فرمائی اور احرام کے بعد نکاح کیا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِذَا قَرَاۡتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ"اور فرماتاہے:"اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا وُجُوۡھَکُمْ"یعنی جب تم قرآن پڑھنا چاہو تواعوذ بِاللّٰهِپڑھو اور جب تم نماز پڑھنا چاہو تو وضو کرو،یوں ہیتزوّجکے معنے ہیں نکاح کرنا چاہا،تیاری نکاح نکاح سے پہلے ہوتی ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث ابن عباس کے خلاف نہیں اور اگر خلاف بھی ہو تب بھی حدیث ابن عباس کو ترجیح ہے جیساکہ ہم نے ابھی عرض کیا۔
۳
؎یہاںاکثرونسے مرادشوافع علماء ہیں انہوں نے یہ تاویل کی ہے مگر یہ تاویل بالکل خلاف ظاہر ہے کیونکہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے کہ نکاح احرام میں کیا ہو اور ظہور نکاح حلال ہونے کی حالت میں ہوا ہو،نیزتزوّجکو ظہور نکاح کے معنے میں لینا بہت ہی بعید ہے۔غرضکہ مذہب احناف بہت قوی ہے،امام زہری نے جب یزید ابن اصم کی حدیث عمرو ابن دینار پر پیش کی تو عمرو نے فرمایا کہ یزید جو دیہات کے باشندے تھے حضرت ابن عباس کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں،حدیث ابن عباس کو صحاح ستہ نے روایت کیا اور حدیث یزیدکو مسلم نے۔ابو رافع کی حدیث میں ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ نکاح بحالت حلال کیا اور میں ہی اس نکاح میں پیغام رساں تھا،یہ حدیث درجہ صحت کو نہ پہنچی اسے ابن حبان نے نقل کیا اور ترمذی نے اسے صحیح نہ کہاحسن کہا اور اگر صحیح بھی ہوتو مطلب وہ ہی ہے کہ تیاری نکاح بحالت احرام تھی،پیغام رسانی ارادہ نکاح میں ہوتی ہے نہ کہ عین نکاح کے وقت،اس وقت تو وکالت ہوتی ہے جو حضرت عباس نے کی،حضرت ابن عباس کی جو روایت ہے کہ آپ نے حلال ہونے کی حالت میں نکاح کیا وہ بالکل سن کر ہے جسے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھنا چاہیے اور اگر یہ روایات متعارض مان لی جائیں تو دونوں قسم کی حدیثیں ناقابلِ عمل ہوں گی اور قیاس پر عمل ہوگا جیساکہ تعارض کا حکم ہے۔قیاس چاہتا ہے کہ نکاح محرم درست ہو کیونکہ نکاح دوسرے عقود بیع،اجارہ وغیرہ کی طرح ایک عقد ہے،جب محرم بیع اجارہ کرسکتا ہے تو نکاح بھی کرسکتا ہے،نیز اصل اشیاء اباحت ہے اور حرمت عارضی،حدیث ابن عباس نکاح محرم کی اباحت ثابت کررہی ہے لہذا اسی کو ترجیح ہے کہ اباحت اصلیہ اس کی مرجح ہے،نیز حدیث ابن عباس مثبت ہے،یہ احادیث نافی اور مثبت کو ترجیح ہوتی ہے۔(ازمرقات مع الزیادۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2683