Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2680

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعِّرَانَةِ، إِذْ جَاءَهٗ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالخَلُوقِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالعُمْرَةِ وَهٰذِهٖ عَلَيَّ. فَقَالَ: «أَمَا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن يعلى بن أمية قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم بالجعرانة، إذ جاءه رجل أعرابي عليه جبة وهو متضمخ بالخلوق فقال: يا رسول الله إني أحرمت بالعمرة وهذه علي. فقال: «أما الطيب الذي بك فاغسله ثلاث مرات وأما الجبة فانزعها ثم اصنع في عمرتك كما تصنع في حجك»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یعلٰی ابن امیہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ مقام جعرانہ میں تھے ۲؎کہ آپ کے پاس ایک بدوی حاضر ہوئے جن پر قبا تھی اور وہ خلوق خوشبو میں لتھڑے ہوئے تھے ۳؎تو بولے یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور مجھ پر یہ ہے فرمایا اپنی خوشبو تو تین بار دھوڈالو ۴؎رہا جبہ تو اسے اتار ڈالو،پھر عمرہ میں وہ ہی کرو جو حج میں کرتے ہو ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،فتح کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین و طائف میں حاضر ہوئے،تمیمی ہیں،حنظلی ہیں،جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ساتھ تھے،اسی میں شہید ہوئے۔
۲
؎یہ جگہ حرم شریف سے خارج ہے،طائف کے راستہ پر ہے،آج کل اس کا نام سہل ہے،فقیر وہاں دوبار حاضر ہوا ہے۔بعض آئمہ کے ہاں عمرہ کا احرام جعرانہ سے باندھنا افضل ہے،ہمارے امام اعظم کے ہاں تنعیم سے باندھنا بہتر کہ جعرانہ سے احرام کا عمل حضور نے فرمایا تھا اور تنعیم سے احرام باندھنے کا حضرت عائشہ صدیقہ کو حکم دیا اور حکم عمل سے اعلٰی ہوتا ہے،اب تنعیم والے عمرہ کو چھوٹا عمرہ کہتے ہیں اور جعرانہ والے کو بڑا عمرہ۔
۳
؎خلوقعرب کی مشہور خوشبو ہے جس میں زعفران ہوتا ہے بہت مہکتی ہے اور رنگت بھی رکھتی ہے۔
۴
؎چونکہ اس خوشبو میں زعفران ہوتا ہے رنگت دیتی ہے اس لیے مرد کو بہرحال ممنوع ہے اسی لیے اس کے دھو ڈالنے کا حکم دیا ورنہ محرم اگر احرام سے پہلے خوشبو لائے پھر احرام باندھے وہ خوشبو باقی ہو تو کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا۔جن لوگوں نے اس حدیث کی بنا پر احرام سے پہلے والی خوشبو کو بھی منع کیا انہوں نے غلطی کی۔
۵
؎یعنی جن چیزوں سے حج میں بچتے ہو ان سے ہی عمرہ میں بچو یا جیسے طواف و سعی حج میں کرتے ہو عمرے میں بھی کرو،یہ مطلب نہیں کہ عمرہ میں حج کے سارے ارکان ادا کرو۔خیال رہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے ہاں اگر بھول کر بھی اس قسم کی غلطی کرے تو بھی اس پر فدیہ ہے دیگر آئمہ کے ہاں بھول میں فدیہ نہیں،یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فدیہ کا حکم نہ دیا مگر ظاہر ہے کہ کسی چیز کا ذکر نہ ہونا اس کی دلیل نہیں،عدم ثبوت اور ہے ثبوت عدم کچھ اور۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2680