Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2690

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا جَاوَزُوا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلٰى وَجْهِهَا، فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَلِابْنِ مَاجَهْ مَعْنَاهُ

وعن عائشة قالت: كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات فإذا جاوزوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها، فإذا جاوزونا كشفناه. رواه أبو داود، ولابن ماجه معناه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ہم پر قافلے گزرے تھے جب کہ ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے جب قافلے ہم پر گزرتے ۱؎تو ہم میں سے ہر ایک اپنے سر سے چہرے پر چادر ڈال لیتی ۲؎پھر جب وہ آگے بڑھ جاتے تو ہم منہ کھول لیتے تھے ۳؎(ابوداؤد)ابن ماجہ کی روایت میں اس کے معنی ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ویسے تو ہم اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنے چہرے کھلے رکھتے تھے مگر جب قافلے ہم پر گزرتے تو ان میں مرد بھی ہوتے تھے ان سے ہم پردہ کرنے کی کوشش کرتے تھے لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ حضرات اپنے مدینہ والے مردوں سے پردہ نہ کرتی تھیں،جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا،پردہ ہر اس مرد سے واجب ہے جس سے نکاح درست ہو،خواہ مدینہ کا ہو یا باہر کا۔
۲
؎مگر ا سطرح کہ چادر کا یہ حصہ چہرے سے مس نہ کرے اس سے علیحدہ رہے کہ اس میں پردہ بھی ہوگیا،نقاب چہرے سے مس بھی نہ ہو،لہذا یہ حدیث گزشتہ نقاب کی ممانعت کی حدیث کے خلاف کے نہیں۔
۳
؎کیونکہ اب کوئی نامحرم مرد نہ رہتا تھا جس سے پردہ ہو۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی بیویاں تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُهُمْ"مگر پردہ حجاب ان پر بھی فرض ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:" وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ"اب موجودہ زمانہ کی بے پردہ عورتوں کو اس حدیث سے عبرت لینا چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2690