Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2691

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ وَهُوَ مُحْرِمٌ غَيْرَ الْمُقتَّتِ. يَعْنِي: غَيْرَ الْمُطَيَّبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يدهن بالزيت وهو محرم غير المقتت. يعني: غير المطيب. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم بحالت احرام روغن زیتون لگالیتے تھے جو کسی خوشبو سے مہکایا نہ جاتا تھا ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

؎مقتتتقتیتسے بنا بمعنی روغن کو خوشبو سے مہکانا یا تو خوشبو کے ساتھ پکا کر یا تلوں وغیرہ کو پھولوں میں بسا کر یا تیل میں پھول ڈال کر،یہ سبتقتیتکی صورتیں ہیں۔خیال رہے کہ خوشبودار تیل عضو کامل پر لگانے سے محرم پر بالاتفاق قربانی واجب ہے مگر خالص تل یا زیتون کے تیل لگانے میں اختلاف ہے،امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ اسے خوشبو مانتے ہیں کہ اس کے لگانے سے امام صاحب کے ہاں قربانی اور صاحبین کے ہاں صدقہ واجب ہے مگر جب کہ خوشبو کے لیے ملا جائے،اگر دواءً استعمال یا اس کی مالش کی جائے تو ہمارے یہاں بھی کچھ واجب نہیں،دیگر آئمہ کے ہاں ان تیلوں سے کچھ واجب نہیں،امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے یہاں اس حدیث میں دواءً تیل لگانا مراد ہے،دوسرے اماموں کے ہاں خوشبوکے لیے لگانا مرادلہذا یہ حدیث امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2691