Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2682

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بی بی میمونہ سے بحالت احرام نکاح کیا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ نکاح عمرہ قضا میں ہوا،بمقام سرف جو مکہ معظمہ سے قریبًا چھ میل فاصلہ پر ہے وادی فاطمہ کے قریب۔ خیال رہے کہ حضرت میمونہ ہ بنت حارث ہلالیہ ہیں،ان کی سگی بہن لبابہ کبریٰ ام الفضل حضرت عباس کے نکاح میں ہیں اور اخیافی بہن اسماء بنت عمیس حضرت جعفر کے نکاح میں اور دوسری اخیافی بہن سلمٰی بنت عمیس جناب حمزہ کے نکاح میں ہیں، لہذا حضرت میمونہ ابن عباس کی سگی خالہ ہیں،حضرت میمونہ کے اس نکاح میں حضرت عباس وکیل میمونہ تھے،انہوں نے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے آپ کا نکاح کیا،واپسی پر اسی مقام میں زفاف ہوا ا ور اسی جگہ حضرت میمونہ کی وفات و قبر ہوئی لوگ زیارت کرتے ہیں۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ اس نکاح کا حال جس قدر حضرت ابن عباس کو معلوم ہوسکتا ہے دوسرے کو نہیں کہ یہ خود ان کی خالہ کا معاملہ ہے اور آپ کے والد ماجد اس نکاح میں وکیل ہیں،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ محرم بحالت احرام نکاح کرسکتا ہے،یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے اور گزشتہ بیان استحباب کے لیے،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2682