Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2692

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَجَدَ الْقَرَّ فَقَالَ: أَلْقِ عَلَيَّ ثَوبًانَافِعُ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ هٰذَا وَقَدْ نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبِسَهُ الْمُحْرِمُ؟ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن نافع أن ابن عمر وجد القر فقال: ألق علي ثوبانافع فألقيت عليه برنسا فقال: تلقي علي هذا وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يلبسه المحرم؟ . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر نے سردی محسوس کی تو فرمایا اے نافع مجھ پر کپڑ اڈال دو ۱؎تو میں نے آپ پر ایک برنس ڈال دی ۲؎تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم مجھ پہ ڈالتے ہو حالانکہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابن عمر محرم تھے،موسم سرد تھا یا اتفاقًا سردی ہوگئی جیسے کبھی جون جولائی میں بھی بارش یا اولے پڑ جانے سے عارضی سردی ہوجاتی ہے۔
۲
؎برنسلمبی ٹوپی کو بھی کہتے ہیں اور لمبی چادر کو بھی جو سربھی ڈھانپ لے،یہاں دوسرے معنے مراد ہیں یعنی میں نے ان پر وہ لمبی چادر ڈال دی جس سے ان کا سر بھی ڈھک گیا،برنسمیں ایسی سلائی ہوتی ہے جس میں سر ڈھکنے کا حصہ بن جاتا ہے۔
۳
؎خیال رہے کہ محرم کو سلا کپڑا پہننا منع ہے حتی کہ اس کا اپنے پر ڈالنا۔پہننایہ ہے کہ سلائی کے ذریعہ کپڑا جسم پر رُکے،ڈالنا یہ ہے کہ کسی اور ذریعہ سے اسے روکا جائے۔حضرت ابن عمر نے یا تو اس لیے منع فرمایا کہ آپ کا سر ڈھک گیا تھا اور محرم کو سر ڈھانپنا منع ہے یا آپ نے سلا کپڑا ڈالنا بھی مکروہ سمجھا۔فتح القدیر میں فرمایا کہ سلا کپڑا اس طرح اپنے پر ڈالنا کہ پہننے کے مشابہ ہوجائے مکروہ ہے۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2692