Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2695

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍقَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ وَبَنٰى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

وعن أبي رافعقال: تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم ميمونة وهو حلال وبنى بها وهو حلال وكنت أنا الرسول بينهما. رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث حسن

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت میمونہ سے حلال ہونے کی صورت میں نکاح کیا اور حلال ہی ہونے کی حالت میں ان سے زفاف فرمایا میں ہی دونوں کے درمیان پیغام رساں تھا ۲؎(احمد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام مصعب یا ابراہیم ہے،کنیت ابو رافع،آپ پہلے حضرت عباس کے غلام تھے،کسی قبطی نے آپ کو عطیہ دیا تھا،حضرت عباس نے بطور نذر حضور کو ان کا مالک بنادیا،بدر سے کچھ پہلے ایمان لائے مگر بدر میں حاضر نہ ہوسکے،جب انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو حضرت عباس کے ایمان لانے کی خبر دی تو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خوش ہوکر انہیں آزاد کردیا۔اکمال میں ہے کہ آپ کا انتقال شہادت حضرت عثمان سے کچھ پہلے ہوا ہے مگر بعض مؤرخین فرماتے ہیں کہ آپ کا انتقال خلافت مرتضوی میں ہوا۔(اشعہ و اکمال)مگر آپ آزاد ہونے کے بعد بھی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ ہی رہے۔
۲
؎اس کی تحقیق ابھی کچھ پہلے حضرت ابن عباس کی حدیث کے ماتحت ہوچکی کہ مسلم،بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ حضور نے یہ نکاح بحالت احرام کیا لہذا اس حدیث ابو رافع میںتزوّجکے معنے ہیں تیاری نکاح فرمائی اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ رسالت و پیغام رسانی نکاح کے وقت نہیں بلکہ نکاح سے پہلے ہوتی ہے۔اَنَا الرَّسُوْلُسے معلوم ہورہا ہے کہ نکاح سے پہلے کا واقعہ ہے۔وکیل نکاح حضرت عباس تھے،ان کے فرزند فرماتے ہیں کہ نکاح بحالت احرام ہوا لہذا حق یہی ہے کہ نکاح احرام میں ہواہے اور محرم کو نکاح کرنا جائز ہے صحبت حرام۔
۲
؎یعنی یہ حدیث صحیح نہیں بلکہ حسن ہے اور حدیث ابن عباس جس میں نکاح بحالت احرام ثابت ہے صحیح ہے مسلم،بخاری کی روایت ہے، لہذا وہ اس پر راجح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2695