Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2693

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ فِي وَسَطِ رَأْسِهٖ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مالك بن بحينة قال: احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم بلحي جمل من طريق مكة في وسط رأسه. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن مالک ابن بحینہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بحالت احرام اپنے سر کے وسط میں مکہ معظمہ کے راستہ میں لُحی جمل میں پچھنے لگوائے ۱؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر ہے کہ وسط پر بال ہوتے ہیں وہ دور کئے بغیر وہاں فصد نہیں ہوسکتی اور بال اکھیڑنا،مونڈنا بحالت احرام جرم ہے اس لیے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ضرورۃً یہاں کے بال علیحدہ کر کے فصد کھلوائی ہوگی اور بعد میں فدیہ بھی ادا کردیا ہوگا،یہاں فدیہ کا ذکر نہیں ہے، سرمنڈانے پر فدیہ واجب ہوناآیت قرآنی سے ثابت ہے۔ہماری اس توجیہ کی بنا پر نہ تو حدیث قرآنی آیت کے خلاف ہے اور نہ ان احادیث کے جن میں حاجی کو فصد لینے یا بال منڈانے سے منع فرمایا گیا ہے کہ یہ عمل ضرورۃً تھا اور وہ فرمان بلاضرورت کی صورت میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2693