Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6135

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الآيَةُ {نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن سعد بن أبي وقاص قال: لما نزلت هذه الآية {ندع أبناءنا وأبناءكم} رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا وفاطمة وحسنا وحسينا فقال: «اللهم هؤلاء أهل بيتي» رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم اپنے اور تمہارے بیٹوں کو بلائیں ۱∞؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جناب علی اور فاطمہ اور حسن و حسین کو بلایا ۲؎عرض کیا الٰہی میرے گھر والے یہ ہیں ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ انہیں اپنی ان بد دعاؤں میں شامل کریں خواہ اس طرح کہ مباہلہ میں انہیں حاضر کریں یا اس طرح کہ وہ اگرچہ یہاں سے غائب رہیں مگر انہیں بددعاء میں داخل کریں۔چنانچہ نجران کے عیسائیوں نے یہاں اپنے بچوں کو نجران سے نہیں بلایا تھا۔
۲
؎اس وقت حضرت رقیہ،ام کلثوم اور جناب ابراہیم وفات پاچکے تھے اس لیے وہ نہ آئے۔حضرت علی اہل بیت سکونت اہل بیت نسب ہیں اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنھا و حسنین کریمین اہلِ بیت ولادت۔
۳
؎یعنی الٰہی یہ بھی میرے اہل بیت ہیں،یہ مطلب نہیں کہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان کے سواء اور کوئی نہیں ورنہ یہ حدیث ان آیات قرآنیہ کے بھی خلاف ہوگی اور ان احادیث کے بھی جو ابھی ہم نے عرض کیں۔خیال رہے کہ انسان ایسے موقعہ پر اپنے بچوں کی قسم کھاتا ہے بیویوں یا دوستوں کی قسم نہیں کھاتا اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ان کو اپنے ہمراہ لے گئے مگر تفسیر روح المعانی نے حوالہ سے فرمایا کہ اس موقعہ پر حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق کو مع ان کی اولادوں کے بھی ساتھ لے گئے تھے،دیکھو ہماری تفسیرنعیمی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6135