Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6154

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: «أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَهُمْ وَسَلِمٌ لِمَنْ سَالَمَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعلي وفاطمة والحسن والحسين: «أنا حرب لمن حاربهم وسلم لمن سالمهم» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جناب علی اور فاطمہ اور حسن و حسین سے فرمایا کہ جو ان سے لڑے میں ان سے لڑنے والا ہوں اور جو ان سے صلح کرے میں ان سے صلح جو ہوں ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بنا پر روافض حضرت عائشہ صدیقہ اور امیرمعاویہ اور ان دونوں کے ساتھیوں کو کافر کہتے ہیں کہ انہوں نے جناب علی سے جنگ کی تو گویا حضور سے جنگ کی اور حضور سے جنگ کفر ہے۔اس کے تین جواب ہیں: ایک الزامی دو تحقیقی۔ جواب الزامی تو یہ ہے کہ پھر ان حضرات کی آپس میں صلح بھی ہوگئی جناب علی و عائشہ کی صلح تو ہو ہی گئی،امیر معاویہ سے جناب علی نے صلح کی کوشش کی،پھر امام حسن نے صلح کرلی لہذا ان پرانا سلم لمن سالمھمصادق آگیا۔جواب تحقیقی ایک یہ ہے کہ جنگ کا لفظ اظہار غضب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کفر مراد نہیں ہوتا جیسے قرآن کریم سود خوار کے لیے فرماتا ہے: "فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوۡلِہٖ"اور حضور فرماتے ہیں کہ جو ولی الله سے دشمنی کرےاذنتہ بالحرب۔تیسرے یہ کہ دشمنی کی جنگ کو حرب کہتے ہیں،ان بزرگوں کی جنگیں اختلاف رائے کی بنا پر تھیں دشمنی کی نہ تھیں،جب برادران یوسف علیہ السلام یوسف علیہ السلام کو اتنا ستاکر برسوں رلا کر کافر نہ ہوئے اور حضرت سارہ جناب ہاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و دانہ جنگل میں ڈلوا کر کافر نہ ہوئیں تو وہ حضرات صحابہ کافر کیسے ہوں گے،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6154