Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6140

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعٰى: خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ: " أمَّا بَعْدُ أَلا أيُّها النَّاس فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللّٰهِ فِيهِ الْهُدٰى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللّٰهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهٖ " فَحَثَّ عَلٰى كِتَابِ اللّٰهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي وَفِي رِوَايَةٍ«كِتَابُ اللهِ هُوَ حَبْلُ اللّٰهِ مَنِ اتَّبَعَهٗ كَانَ عَلَى الهُدٰى وَمَنْ تَرَكَهٗ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن زيد بن أرقم قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فينا خطيبا بماء يدعى: خما بين مكة والمدينة فحمد الله وأثنى عليه ووعظ وذكر ثم قال: " أما بعد ألا أيها الناس فإنما أنا بشر يوشك أن يأتيني رسول ربي فأجيب وأنا تارك فيكم الثقلين: أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به " فحث على كتاب الله ورغب فيه ثم قال: وأهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي وفي رواية«كتاب الله هو حبل الله من اتبعه كان على الهدى ومن تركه كان على الضلالة . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ایک دن ہم میں خطیب کھڑے ہوئے اس پانی پر جسے خم کہا جاتا ہے ۱ ∞ ؎مکہ مدینہ کے بیچ تو الله کی حمدوثناء کی اور وعظ و نصیحت فرمائی پھر فرمایا کہ حمد کے بعد لوگو خبردار میں بشر ہوں ۲؎قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد میرے پاس آجائے میں اس کا بلاوا قبول کرلوں۳؎میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑتا ہوں۴؎جن میں سے پہلی تو الله کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ۵؎تم الله کی کتاب لو اسے مضبوط پکڑو ۶؎پھر کتاب الله پر ابھارا اس کی رغبت دی ۷؎پھر فرمایا اور میرے اہل بیت ۸؎میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں۹؎اور ایک روایت میں ہے کہ الله کی کتاب الله کی رسی ہے ۱۰؎جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پر رہا جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پرہوا ۱۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎غدیر خم کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے کہ حرمین شریفین کے درمیان جحفہ منزل کے قریب ایک جگہ کا نام خم ہے وہاں ایک تالاب ہے اس تالاب کو غدیر خم کہتے تھے،وہاں کا یہ واقعہ ہے۔
۲
؎چونکہ میں بشر ہوں لہذا مجھے بھی موت یقینًا آنی ہے؎جو یہاں آیا ہے اس کو ہوگا جانا ایک دن سب کو ہے منھا خلقناکم کا صدمہ ایک دن
۳
؎رسول رب سے مراد یا حضرت عزرائیل علیہ السلام ہیں جو سب کے پاس موت کے وقت آتے ہیں،یا حضرت جبریل علیہ السلام ہیں جو وفات شریف کے وقت ملک الموت کے ساتھ حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے استقبال کے لیے بارگاہ الٰہی میں ساتھ لے جانے کے لیے۔
۴
؎ثقلینبنا ہےثقلسے بمعنی بوجھ،جن و انس کو بھی ثقلین کہتے ہیں کہ زمین میں ان کا بڑا وزن ہے،پھر فرمان الٰہی احکام شرعیہ کو ثقل کہتے ہیں کہ ان پر عمل نفس پر بوجھ ہے"اِنَّا سَنُلْقِیۡ عَلَیۡكَ قَوْلًا ثَقِیۡلًا"چونکہ قرآن مجید پر عمل اہل بیت کی اطاعت نفس پر بھاری ہے لہذا انہیںثقلینفرمایا۔بعض شارحین نے فرمایا کہثقلینبمعنی زینت کی چیز ہیں۔جن و انس کو ثقلین اس لیے فرمایا گیا ہے کہ ان سے زمین کی زینت ہے"سَنَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّہَ الثَّقَلَانِ"محشر میں انہیں کا حساب و کتاب ہے،چونکہ ایمان کی زینت دین کی رونق قرآن مجید اور اہل بیت اطہار سے ہے اس لیے انہیں ثقلین فرمایا۔ (مرقات)یعنی دو بھاری بھرکم چیزیں یا نفیس ترین چیزیں جو متاع ایمان میں سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔
۵
؎یعنی قرآن مجید میں عقائد و اعمال کی ہدایت ہے اور یہ دنیا میں دل کا نور ہے قیامت میں پلصراط کا نور۔
۶
؎استمساكکے معنی ہیں مضبوطی سے تھامنا کہ چھوٹ نہ جائے قرآن کریم کو ایسی مضبوطی سے تھامو کہ زندگی اس کے سایہ میں گزرے موت اس کے سایہ میں آئے کیونکہ؎گر تومی خواہی مسلمان زیستن نیست ممکن جز بقرآن زیستن
خیال رہے کہ کتاب الله میں سنت رسول الله صلی الله علیہ و سلم بھی داخل ہے کہ وہ کتاب الله کی شرح اور اس پر عمل کرانے والی ہے،سنت کے بغیر کتاب الله پر عمل ناممکن ہے لہذا یہ نہیں کہاجاسکتا کہ صرف قرآن کافی ہے حدیث کی ضرورت نہیں بلکہ فقہ بھی کتاب الله کی ہی شرح یا حاشیہ ہے۔
۷
؎یعنی قرآن مجید پر عمل نہ کرنے سے ڈرایا عمل کرنے پر رغبت دی ثواب کا وعدہ فرمایا۔
۸
؎یعنی میری اولاد میری ازواج جناب علی وغیرہم ان کی اطاعت ان سے محبت کرو۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بیت یعنی گھر دو ہیں: ایک جسم کا گھر،دوسرے ذکر کا گھر یہ دونوں آبادی دنیا کا ذریعہ ہیں۔حضور صلی الله علیہ و سلم کے جسم خانہ والے تو آپ کی اولاد ازواج ہیں اور ذکر خانہ والے تاقیامت علماء اولیاء صالحین ہیں ان کے دلوں میں حضور کا نور بلکہ خود حضور صلی الله علیہ و سلم جلوہ گر ہیں۔(حکیم علی ترمذی،اشعۃ اللمعات)
۹
؎یعنی میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں،ان کی نافرمانی بے ادبی بھول کر بھی نہ کرنا ورنہ دین کھو بیٹھو گے۔خیال رہے کہ حضرات صحابہ اور اہل بیت کی لڑائیاں جھگڑے عداوت و بغض کے نہ تھے بلکہ اختلاف رائے کے تھے جیسے یوسف علیہ السلام کےبھائیوں کا اختلاف رائے یوسف علیہ السلام کے متعلق یا جناب سارہ کا اختلاف رائے حضرت ہاجرہ سے لہذا وہ نہ کفر ہیں نہ الحاد ورنہ لازم آئے گا کہ حضرت علی و عائشہ دونوں پر الزام آجاوے کہ دونوں اہل بیت ہیں اور ان دونوں بزرگوں کی جنگ ہوئی جمل میں،اس پر مفصل گفتگو ہماری کتاب امیرمعاویہ میں دیکھو۔
۱۰
؎یہ فرمان عالی اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَاعْتَصِمُوۡا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا"جیسے کنویں میں گیا ہوا ڈول رسی سے وابستہ رہے تو پانی لے آتا ہے وہاں کی کیچڑ میں نہیں پھنستا لیکن اگر رسی سے کھل جاوے تو وہاں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے،دنیا کنواں ہے جہاں نیک اعمال و ایمان کا پانی بھی ہے اور کفر و گناہوں کی دلدل بھی،ہم لوگ گویا ڈول ہیں اگر قرآن اور صاحب قرآن سے وابستہ رہے تو یہاں کے کفرو عصیان میں نہیں پھنسیں گے نیک اعمال کا پانی لے کر بخیریت اپنے گھر پہنچیں گے۔خیال رہے کہ قرآن رسی ہے حضور صلی الله علیہ و سلم اوپر کھینچنے والے مالک ہیں اور اگر حضور رسی ہیں تو رب تعالٰی اوپر کھینچنے والا۔امام ابوصیری کہتے ہیں؎دعا الی الله فالمستمسکون بہ
مستمسکون بحبل غیر منفصمی
رسی کا ایک کنارہ ڈول میں ہوتا ہے دوسرا کنارہ اوپر والے کے ہاتھ میں اگر اوپر والا ہاتھ نہ کھینچے تو رسی ڈول کو نہیں نکال سکتی۔
۱۱∞؎
لہذا کوئی قرآن چھوڑ کر ہدایت پر نہیں آسکتا۔خیال رہے کہ بعض مؤمنین بغیر کتاب الله صرف نبی کے ذریعہ رب تک پہنچ گئے جیسے فرعونی جادوگر یا جیسے وہ لوگ جو عین جہاد میں ایمان لاکر فورًا شہید ہوگئے مگر کوئی شخص صرف کتاب الله سے بغیر نبی رب تک نہیں پہنچا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6140