- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6140
باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6140
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعٰى: خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ: " أمَّا بَعْدُ أَلا أيُّها النَّاس فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللّٰهِ فِيهِ الْهُدٰى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللّٰهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهٖ " فَحَثَّ عَلٰى كِتَابِ اللّٰهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي وَفِي رِوَايَةٍ«كِتَابُ اللهِ هُوَ حَبْلُ اللّٰهِ مَنِ اتَّبَعَهٗ كَانَ عَلَى الهُدٰى وَمَنْ تَرَكَهٗ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن زيد بن أرقم قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فينا خطيبا بماء يدعى: خما بين مكة والمدينة فحمد الله وأثنى عليه ووعظ وذكر ثم قال: " أما بعد ألا أيها الناس فإنما أنا بشر يوشك أن يأتيني رسول ربي فأجيب وأنا تارك فيكم الثقلين: أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به " فحث على كتاب الله ورغب فيه ثم قال: وأهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي وفي رواية«كتاب الله هو حبل الله من اتبعه كان على الهدى ومن تركه كان على الضلالة . رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ایک دن ہم میں خطیب کھڑے ہوئے اس پانی پر جسے خم کہا جاتا ہے ۱ ∞ ؎مکہ مدینہ کے بیچ تو الله کی حمدوثناء کی اور وعظ و نصیحت فرمائی پھر فرمایا کہ حمد کے بعد لوگو خبردار میں بشر ہوں ۲؎قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد میرے پاس آجائے میں اس کا بلاوا قبول کرلوں۳؎میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑتا ہوں۴؎جن میں سے پہلی تو الله کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ۵؎تم الله کی کتاب لو اسے مضبوط پکڑو ۶؎پھر کتاب الله پر ابھارا اس کی رغبت دی ۷؎پھر فرمایا اور میرے اہل بیت ۸؎میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں۹؎اور ایک روایت میں ہے کہ الله کی کتاب الله کی رسی ہے ۱۰؎جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پر رہا جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پرہوا ۱۱∞؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎غدیر خم کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے کہ حرمین شریفین کے درمیان جحفہ منزل کے قریب ایک جگہ کا نام خم ہے وہاں ایک تالاب ہے اس تالاب کو غدیر خم کہتے تھے،وہاں کا یہ واقعہ ہے۔
۲؎چونکہ میں بشر ہوں لہذا مجھے بھی موت یقینًا آنی ہے؎جو یہاں آیا ہے اس کو ہوگا جانا ایک دن سب کو ہے منھا خلقناکم کا صدمہ ایک دن
۳؎رسول رب سے مراد یا حضرت عزرائیل علیہ السلام ہیں جو سب کے پاس موت کے وقت آتے ہیں،یا حضرت جبریل علیہ السلام ہیں جو وفات شریف کے وقت ملک الموت کے ساتھ حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے استقبال کے لیے بارگاہ الٰہی میں ساتھ لے جانے کے لیے۔
۴؎ثقلینبنا ہےثقلسے بمعنی بوجھ،جن و انس کو بھی ثقلین کہتے ہیں کہ زمین میں ان کا بڑا وزن ہے،پھر فرمان الٰہی احکام شرعیہ کو ثقل کہتے ہیں کہ ان پر عمل نفس پر بوجھ ہے"اِنَّا سَنُلْقِیۡ عَلَیۡكَ قَوْلًا ثَقِیۡلًا"چونکہ قرآن مجید پر عمل اہل بیت کی اطاعت نفس پر بھاری ہے لہذا انہیںثقلینفرمایا۔بعض شارحین نے فرمایا کہثقلینبمعنی زینت کی چیز ہیں۔جن و انس کو ثقلین اس لیے فرمایا گیا ہے کہ ان سے زمین کی زینت ہے"سَنَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّہَ الثَّقَلَانِ"محشر میں انہیں کا حساب و کتاب ہے،چونکہ ایمان کی زینت دین کی رونق قرآن مجید اور اہل بیت اطہار سے ہے اس لیے انہیں ثقلین فرمایا۔ (مرقات)یعنی دو بھاری بھرکم چیزیں یا نفیس ترین چیزیں جو متاع ایمان میں سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔
۵؎یعنی قرآن مجید میں عقائد و اعمال کی ہدایت ہے اور یہ دنیا میں دل کا نور ہے قیامت میں پلصراط کا نور۔
۶؎استمساكکے معنی ہیں مضبوطی سے تھامنا کہ چھوٹ نہ جائے قرآن کریم کو ایسی مضبوطی سے تھامو کہ زندگی اس کے سایہ میں گزرے موت اس کے سایہ میں آئے کیونکہ؎گر تومی خواہی مسلمان زیستن نیست ممکن جز بقرآن زیستن
خیال رہے کہ کتاب الله میں سنت رسول الله صلی الله علیہ و سلم بھی داخل ہے کہ وہ کتاب الله کی شرح اور اس پر عمل کرانے والی ہے،سنت کے بغیر کتاب الله پر عمل ناممکن ہے لہذا یہ نہیں کہاجاسکتا کہ صرف قرآن کافی ہے حدیث کی ضرورت نہیں بلکہ فقہ بھی کتاب الله کی ہی شرح یا حاشیہ ہے۔
۷؎یعنی قرآن مجید پر عمل نہ کرنے سے ڈرایا عمل کرنے پر رغبت دی ثواب کا وعدہ فرمایا۔
۸؎یعنی میری اولاد میری ازواج جناب علی وغیرہم ان کی اطاعت ان سے محبت کرو۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بیت یعنی گھر دو ہیں: ایک جسم کا گھر،دوسرے ذکر کا گھر یہ دونوں آبادی دنیا کا ذریعہ ہیں۔حضور صلی الله علیہ و سلم کے جسم خانہ والے تو آپ کی اولاد ازواج ہیں اور ذکر خانہ والے تاقیامت علماء اولیاء صالحین ہیں ان کے دلوں میں حضور کا نور بلکہ خود حضور صلی الله علیہ و سلم جلوہ گر ہیں۔(حکیم علی ترمذی،اشعۃ اللمعات)
۹؎یعنی میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں،ان کی نافرمانی بے ادبی بھول کر بھی نہ کرنا ورنہ دین کھو بیٹھو گے۔خیال رہے کہ حضرات صحابہ اور اہل بیت کی لڑائیاں جھگڑے عداوت و بغض کے نہ تھے بلکہ اختلاف رائے کے تھے جیسے یوسف علیہ السلام کےبھائیوں کا اختلاف رائے یوسف علیہ السلام کے متعلق یا جناب سارہ کا اختلاف رائے حضرت ہاجرہ سے لہذا وہ نہ کفر ہیں نہ الحاد ورنہ لازم آئے گا کہ حضرت علی و عائشہ دونوں پر الزام آجاوے کہ دونوں اہل بیت ہیں اور ان دونوں بزرگوں کی جنگ ہوئی جمل میں،اس پر مفصل گفتگو ہماری کتاب امیرمعاویہ میں دیکھو۔
۱۰؎یہ فرمان عالی اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَاعْتَصِمُوۡا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا"جیسے کنویں میں گیا ہوا ڈول رسی سے وابستہ رہے تو پانی لے آتا ہے وہاں کی کیچڑ میں نہیں پھنستا لیکن اگر رسی سے کھل جاوے تو وہاں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے،دنیا کنواں ہے جہاں نیک اعمال و ایمان کا پانی بھی ہے اور کفر و گناہوں کی دلدل بھی،ہم لوگ گویا ڈول ہیں اگر قرآن اور صاحب قرآن سے وابستہ رہے تو یہاں کے کفرو عصیان میں نہیں پھنسیں گے نیک اعمال کا پانی لے کر بخیریت اپنے گھر پہنچیں گے۔خیال رہے کہ قرآن رسی ہے حضور صلی الله علیہ و سلم اوپر کھینچنے والے مالک ہیں اور اگر حضور رسی ہیں تو رب تعالٰی اوپر کھینچنے والا۔امام ابوصیری کہتے ہیں؎دعا الی الله فالمستمسکون بہ
مستمسکون بحبل غیر منفصمیرسی کا ایک کنارہ ڈول میں ہوتا ہے دوسرا کنارہ اوپر والے کے ہاتھ میں اگر اوپر والا ہاتھ نہ کھینچے تو رسی ڈول کو نہیں نکال سکتی۔
۱۱∞؎لہذا کوئی قرآن چھوڑ کر ہدایت پر نہیں آسکتا۔خیال رہے کہ بعض مؤمنین بغیر کتاب الله صرف نبی کے ذریعہ رب تک پہنچ گئے جیسے فرعونی جادوگر یا جیسے وہ لوگ جو عین جہاد میں ایمان لاکر فورًا شہید ہوگئے مگر کوئی شخص صرف کتاب الله سے بغیر نبی رب تک نہیں پہنچا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6140