Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6171

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّي: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ المَغْرِبَ وَأَسْأَلُهٗ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ المَغْرِبَ فَصَلّٰى حَتّٰى صَلَّى العِشَاءَ ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهٗ فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ: «مَنْ هٰذَا ؟ حُذَيْفَةُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «مَا حَاجَتُكَ؟ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ وَلِأُمِّكِ إِنَّ هٰذَامَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهٖ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهٗ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن حذيفة قال: قلت لأمي: دعيني آتي النبي صلى الله عليه وسلم فأصلي معه المغرب وأسأله أن يستغفر لي ولك فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فصليت معه المغرب فصلى حتى صلى العشاء ثم انفتل فتبعته فسمع صوتي فقال: «من هذا ؟ حذيفة؟» قلت: نعم. قال: «ما حاجتك؟ غفر الله لك ولأمك إن هذاملك لم ينزل الأرض قط قبل هذه الليلة استأذن ربه أن يسلم علي ويبشرني بأن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة وأن الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة» رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے اجازت دو کہ میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں جاؤں آپ کے ساتھ مغرب پڑھوں ۱∞؎اور آپ سے عرض کروں کہ میرے اور تمہارے لیے دعائے مغفرت کریں ۲؎تو میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے ساتھ مغرب پڑھی آپ نے مغرب پڑھی حتی کہ عشاء پڑھی ۳؎پھر حضور واپس ہوئے میں آپ کے پیچھے گیا،حضور نے میری آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے کیا حذیفہ، میں نے کہا ہاں فرمایا تمہاری کیا حاجت ہے الله تمہیں اور تمہاری ماں کو بخشے ۴؎یہ ایک فرشتہ ہے جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا ۵؎اس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرے اور مجھے بشارت دے کہ فاطمہ جنتی لوگوں کی بیویوں کی سردار ہیں ۶؎اور حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۷؎(ترمذی)اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت حذیفہ کا گھر مسجد نبوی شریف سے کچھ فاصلے پر تھا اس لیے ان کو ان کی والدہ نے شام کے وقت گھر رہنے کی تاکید فرمائی تھی،مسجد نبوی شریف میں حاضر ہونے کی اجازت نہ دیتی تھیں،انہیں یا تو حضرت حذیفہ پر خوف تھا یا اپنے پر اس لیے آپ نے فرمایا کہ اماں جان مجھے آج وہاں حاضری کی اجازت دے دیجئے۔
۲
؎یعنی رات میں حضور صلی الله علیہ و سلم کے پاس ہجوم کم ہوتا ہے مجھے عرض معروض کرنے کا اچھا موقعہ ملے گا اس لیے رات میں حاضری کی اجازت مانگی۔
۳
؎یعنی میں نے نماز مغرب حضور انور کے ساتھ پڑھی پھر عشاء تک حضور کے پاس حاضر رہا۔بعض مشائخ کرام مغرب سے عشاء تک نوافل اور وظائف پڑھتے ہیں اسے احیاء مابین العشائین کہتے ہیں۔اب بھی مدینہ منورہ میں مسلمان مغرب کی نماز کے لیے مسجد نبوی شریف میں جاتے ہیں تو عشاء پڑھ کر آتے ہیں۔
۴
؎حضور انور نے نور نبوت سے حضرت حذیفہ کو بھی جان لیا ان کے دل کی حاجت بھی معلوم کرلی کہ یہ کیوں آرہے ہیں،بھلا جس پر پتھر کے دل کی بات ظاہر ہو کہ فرمایا احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں اس پر انسانوں کے دل کے حالات دلی تمنائیں کیسے مخفی رہ سکتی ہیں،وہاں عرض کرنے کی ضرورت ہی نہیں انہیں ہماری حاجتیں مرادیں سب معلوم ہیں۔شعر
قدرت کی تحریریں جانے امی اور تقریریں جانے
بخشش کی تدبیریں جانے وہ ہے رحمت والا
جن کا نام ہے محمد ان سے دوجگ ہے اجیالا
۵
؎اس فرشتہ کا نام روایات میں نہیں آیا بہرحال رحمت کا خاص فرشتہ ہے خادم بارگاہ ہے۔
۶
؎اس کی شرح پہلے گزرچکی کہ جناب سیدہ فاطمہ زہرا جنتی مؤمنین کی بیویوں کی سردار ہیں لہذا اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ وہ جناب خدیجۃ الکبریٰ اور عائشہ صدیقہ کی بھی سردار ہوں کیونکہ وہ تو سید الانبیاء کی زوجہ مطہرہ ہیں۔
۷
؎اس کی شرح پہلے گزر گئی جو لوگ جوانی میں وفات پاگئے اور تھے جنتی انکے سردار حضرات حسنین کریمین ہیں لہذا آپ دونوں نبیوں کے سردار نہیں کیونکہ کوئی نبی جوانی میں دنیا سے تشریف نہیں لے گئے،جنت میں سب ہی جوان ہوں گے۔
۸
؎یہ حدیث احمد نے بروایت حسن روایت فرمائی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6171