Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6181

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہٗ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهٖ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا هٰذَا ؟ قَالَ: هٰذَادَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهٖ وَلَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهٗ مُنْذُ الْيَوْمِ» فَأُحْصِي ذَلِكَ الْوَقْتَ فَأَجِدُ قُتِلَ ذَلِكَ الْوَقْتَ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ" وَأَحْمَدُ الأَخِيرَ.

وعن ابن عباس أنہ قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم فيما يرى النائم ذات يوم بنصف النهار أشعث أغبر بيده قارورة فيها دم فقلت: بأبي أنت وأمي ما هذا ؟ قال: هذادم الحسين وأصحابه ولم أزل ألتقطه منذ اليوم» فأحصي ذلك الوقت فأجد قتل ذلك الوقت. رواهما البيهقي في "دلائل النبوة" وأحمد الأخير.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو ایک دن دوپہری میں خواب میں دیکھا پرا گنداہ بال گردا گرد آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی جس میں خون تھا ۱∞؎میں نے کہا کہ میرے ماں باپ فدا ہوں یہ کیا ہے فرمایا یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے آج میں اس خون کو اٹھاتا رہا ۲؎میں وہ وقت خیال میں رکھنے لگا میں نے یہ وقت قتل کا پایا۳؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیں اور احمد نے آخری حدیث روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ خواب دسویں محرم الحرام ۶۱ھ؁ ∞کو دیکھا ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بعد وفات بھی حضور صلی الله علیہ و سلم کو دین اور دنیا کے واقعات کی خبر ہے کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔دوسرے یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم جہاں بھر کی سیر فرماسکتے ہیں کربلا عراق میں ہے، مدینہ منورہ حجاز میں مگر مدینہ والے محبوب اس موقعہ پر وہاں تشریف لے گئے۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم کو کسی جگہ جانے آنے میں قطعًا دیر نہیں لگتی،دیکھو وہاں حضرت امام حسین شہید ہورہے ہیں یہاں سے حضور آن کی آن میں تشریف لے بھی گئے آبھی گئے حضرت ابن عباس کو خبربھی دے دی۔چوتھے یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم اپنی امت کے اعمال ان کے تحفے ہدیئے ہاتھ شریف میں لے سکتے ہیں انہیں قبول کراسکتے ہیں،خون امام حسین علیہ السلام جو اعلٰی درجہ کی عبادت رب کی بارگاہ میں تحفہ تھا دیکھو حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے دستِ اقدس میں ہے۔ پانچویں یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم جہاں بھی تشریف لے جائیں مدینہ منورہ آپ سے خالی نہیں ہوتا اس لیے ہر وقت آپ پر سلام زائرین عرض کرتے رہتے ہیں جیسے ہمارا نور نظر جب آسمان کی سیرکر رہا ہوتا ہے تب آنکھ اس سے خالی نہیں ہوجاتی ورنہ اندھی ہو جاتی۔
۳
؎یعنی میری اس خواب اور قتل امام حسین کا وقت بالکل ایک تھا پل بھر کا فرق نہ تھا،رفتار نبی کا یہ عالم ہے معراج کی رات نبیوں نے حضور کے پیچھے نماز بیت المقدس میں پڑھی،حضور برق رفتار براق پر آسمانوں پر تشریف لے گئے تو انبیاءکرام کو وہاں موجود پایا یہاں سے نبیوں نے حضور کو وداع کیا آسمانوں پر استقبال کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6181