Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6152

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهٖ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلٰى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهٖ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن جابر قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجته يوم عرفة وهو على ناقته القصواء يخطب فسمعته يقول: " يا أيها الناس إني تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا: كتاب الله وعترتي أهل بيتي". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو آپ کے حج میں عرفہ کے دن دیکھا جب کہ آپ اپنی اونٹنی قصواء پر خطبہ پڑھ رہے تھے ۱∞؎میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ اے لوگو میں نے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے کہ جب تک تم ان کو تھامے رہو گے گمراہ نہ ہوگے الله کی کتاب اور میری عترت یعنی اہل بیت ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎قصواء حضور کی اونٹنی کا نام تھا،بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ چونکہ اس کا کان کٹا ہوا تھا اس لیے اسے قصواء کہتے تھے۔والله اعلم!(مرقات)
ہوتے صدقے کبھی ناقہ کے کبھی محمل کے سارباں کے کبھی ہاتھوں کی بلائیں لیتے
دشت طیبہ میں ترے ناقہ کے پیچھے پیچھے دھجیاں جیب و گریبان کی اڑاتے جاتے
حضور انور نے حجۃ الوداع کا خطبہ اسی اونٹنی پر دیا تھا۔
۲
؎عترت کے بہت معنی ہیں: قوم،اقارب،نزدیکی لوگ،ایک دادا کی اولاد اور گھر والے۔اھل بیتیفرماکر عترت کی تفسیر فرمادی کہ یہاں عترت سے مراد اہل بیت ہیں،قرآن پکڑنے سے مراد ہے اس کے پرعمل کرنا،عترت کو پکڑنے سے مراد ہے ان کا احترام کرنا،ان کی روایات پر اعتماد کرنا،ان کے فرمانوں پر عمل کرنا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اہل بیت ہی کو پکڑو باقی کو چھوڑو،صحابہ کرام کے متعلق ارشاد ہےاصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اھتدیتم۔اہل بیت امت کے لیے کشتی ہیں صحابہ امت کے لیے تارے ہیں،سمندرکے سفر میں دونوں کی ضرورت ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ اہل بیت رسول الله صلی الله علیہ و سلم خواہ ازواج پاک ہوں یا اولاد سب ہمیشہ ہدایت پر رہیں گے کبھی گمراہ یا بے راہ نہ ہوں گے۔بعض شارحین نے کہا کہ اہل بیت کی اطاعت ان احکام میں ضروری ہے جو خلاف شرع نہ ہوں مگر حق یہ ہے کہ وہ حضرات نہ تو خلاف شرع کوئی کام کرتے ہیں نہ اس کا حکم دیتے ہیں۔(مرقات)بعض جاہل کہتے ہیں کہ یہاں اہل بیت سے مراد قیامت تک کے سید ہیں مگر یہ غلط ہے۔سید کہلانے والے لوگ بعض مرزائی شیعہ وغیرہ ہیں بعض فساق پھر ان کی اطاعت کیسی ان لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاوے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6152