Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6175

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُصْمِتَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَلَيَّ يَدَيْهِ وَيَرْفَعُهُمَا فَأَعْرِفُ أَنَّهٗ يَدْعُو لِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أسامة بن زيد قال: لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم هبطت وهبط الناس المدينة فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد أصمت فلم يتكلم فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع علي يديه ويرفعهما فأعرف أنه يدعو لي. رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم بہت بھاری بیمار ہوگئے تو میں اور دوسرے لوگ مدینہ آئے میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۱∞؎جب کہ کلام فرمانا بند ہوچکا تھا تو حضور نے کوئی بات نہ کی پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم اپنے ہاتھ مجھ پر رکھنے اور اٹھانے لگے میں پہچان گیا کہ آپ میرے لیے دعائیں فرما رہے ہیں ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حضور صلی الله علیہ و سلم نے اپنی وفات سے کچھ پہلے مہاجرین و انصار کا ایک لشکر روانہ فرمایا جس کے سردار حضرت اسامہ ابن زید تھے،یہ لشکر ابھی مقام جرف میں پہنچا تھا جو مدینہ منورہ سے باہر قریب ہی ہے کہ اسے پتہ لگا کہ حضور انور کو سخت بخار اور درد سر ہے،یہ سب لوگ یہ خبر وحشت اثر سن کر مدینہ منورہ واپس آگئے یہاں یہ واقعہ مذکور ہے۔ چونکہ جرف مدینہ منورہ سے ایسا اونچا ہے جیسے عرفات مکہ معظمہ سے اس لیےھبطتفرمایا یعنی میں اترا۔(لمعات)
۲
؎حضرت اسامہ اب جو حاضر بارگاہ ہوئے تو حیات شریف کے آخری لمحات تھے زبان مبارک سے کلام فرمانا بند کردیا تھا اس لیے حضور انور نے اشارہ سے دعا فرمائی جسے حضرت اسامہ نے فراست ایمانی سے سمجھ لیا،حضرت اسامہ خوش تھے کہ انہوں نے حضور کی آخری دعائیں لے لیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6175