Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6157

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَبَّاسُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: العباس مني وأنا منه رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ عباس مجھ سے ہیں اور میں عباس سے ہوں ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کا مطلب بھی پہلے بیان ہوچکا کہ میں عباس سے قریب ہوں اور عباس مجھ سے قریب ہیں۔جناب عباس حضور سے صرف دو سال بڑے تھے،کسی نے آپ سے پوچھا کہ آپ بڑے یا رسول الله صلی الله علیہ و سلم بڑے ہیں،تو فرمایا کہ بڑے تو وہ ہی ہیں عمر میری زیادہ ہےانا اسن و ھو اکبر۔حضرت عباس بچپن میں گم ہوگئے تھے تو آپ کی والدہ نے منت مانی تھی کہ الٰہی میرا عباس مل جاوے تو میں کعبہ کو ریشم کا غلاف پہناؤں،آپ مل گئے تو انہوں نے ریشمی غلاف کعبہ کو پہنایا آپ نے ہی پہلے ریشمی غلاف چڑھایا۔حضرت عباس نے اپنی وفات کے وقت سترہ غلام آزاد کیے، آپ نے بیاسی سال عمر پائی رجب ۳۲؁ ∞بتیس میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئے،فقیر نے قبر انور کی زیارت کی ہے۔آپ کی وفات بارہ ماہ رجب جمعہ کے دن ہوئی،جنگ بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا تھا کہ کوئی عباس کو قتل نہ کرے وہ جبرًا فوج کفار میں لائے گئے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6157