Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6170

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: الْحَسَنُ أَشْبَهُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن علي قال: الحسن أشبه رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين الصدر إلى الرأس والحسين أشبه النبي صلى الله عليه وسلم ما كان أسفل من ذلك. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرمایا کہ حسن سینے اور سر کے درمیان رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے بہت مشابہہ تھے ۱∞؎اور حسین اس سے نیچے کے حصہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے بہت مشابہہ تھے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ حضرت فاطمہ زہرا ازسر تا قدم بالکل ہم شکل مصطفی تھیں صلی الله علیہ وسلم۔ہم نے عرض کیا ہے؎رسول الله کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا کیا نظارہ جن آنکھوں نے تفسیر نبوت کا
اور آپ کے صاحبزادگان میں یہ مشابہت تقسیم کردی گئی تھی۔یہاں
اشبہیا تو ماضی ہے باب افعال کا یا اسم تفضیل ہےسمع یسمعکا۔حضرت حسین کی پنڈلی قدم شریف اور ایڑی بالکل حضور کے مشابہہ تھی۔علی جدہ وعلیہ الصلوۃ والسلام!۲؎حضور صلی الله علیہ و سلم سے قدرتی مشابہت بھی الله کی نعمت ہے جو اپنے کسی عمل کو حضور کے مشابہہ کردے تو اس کی بخشش ہوجاتی ہےمن تشبہ بقوم فھو منہم۔تو جسے خدا تعالٰی اپنے محبوب کے مشابہہ کرے اس کی محبوبیت کا کیا حال ہوگا اس لیے یہ حدیث فضائل اہلِ بیت کے سلسلے میں لائی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6170