- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6150
باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6150
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهٖ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَأَيْمُ اللّٰهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هٰذَالَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوُهٗ وَفِي آخِرهٖ: «أُوصِيكُمْ بِهٖ فَإِنَّهٗ مِنْ صَالِحِيكُمْ»
وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بعثا وأمر عليهم أسامة بن زيد فطعن بعض الناس في إمارته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن كنتم تطعنون في إمارته فقد كنتم تطعنون في إمارة أبيه من قبل وأيم الله إن كان لخليقا للإمارة وإن كان لمن أحب الناس إلي وإن هذالمن أحب الناس إلي بعده»(متفق عليه) وفي رواية لمسلم نحوه وفي آخره: «أوصيكم به فإنه من صالحيكم»
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر حضرت اسامہ ابن زید کو امیر بنایا ۱∞؎تو بعض لوگوں نے ان کی امارت میں اعتراض کیا۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ان کے امیر ہونے میں طعنہ کرتے ہو تو تم ان کے والد کے امیر ہونے میں بھی اس سے پہلے طعنہ کرتے تھے۳؎الله کی قسم وہ امیری کے لائق تھے۴؎اور وہ مجھے لوگوں سے زیادہ پیارے تھے اور یہ بھی ان کے بعد مجھے لوگوں میں پیارے ہیں ۵؎(مسلم،بخاری )اور مسلم کی دوسری روایت میں اسی کی مثل ہے اس کے آخر میں ہے کہ تم کو ان کے متعلق وصیت کرتا ہوں کہ وہ تمہارے صالحین میں سے ہیں ۶؎
شرح حدیث
۱∞؎حضرت اسامہ ابن زید کو حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے اپنی حیات شریف میں بہت بار امیر لشکر بنایا تھا وفات کے قریب بھی ایک لشکر پر آپ ہی کو امیر بنایا اسے سریہ اسامہ کہتے ہیں۔جب پہلی بار انہیں امیر بنایا تب یہ واقعہ پیش آیا یا ہر دفعہ یہ ہی واقعہ ہوا کہ لوگ ان کی امارت پر اعتراض کرتے رہے۔
۲؎یہ طعن کرنے والے منافقین اور عرب کے بدوی لوگ تھے جو حضرت زید اور اسامہ ابن زید کی امارت پر اس لیے اعتراض کرتے تھے کہ یہ حضرات غلام تھے اور اہل عرب کبھی غلاموں کو کسی کا سردار نہیں بناتے تھے اسلام نے غلاموں کو اٹھا کر سردار بنادیا؎اس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کردیا اس نے قطروں کو ملایا اور دریا کردیا
۳؎خیال رہے کہ غزوہ موتہ میں جو شام کے علاقہ میں ہے حضور انور نے حضرت جعفر طیار جیسے بزرگوں کے ہوتے ہوئے حضرت زیدابن حارثہ کو امیر لشکر بنایا لوگ حیران ہوگئے،منافقین اور ناواقفین نے اس انتخاب پر اعتراض کیا کہ غلام کی امیری کیسی حضور انور یہاں اس کا ذکر فرما رہے ہیں۔
۴؎یعنی اسلام میں غلامی آزادی کا فرق غلط ہے یہاں ہر مؤمن غلام ہو یا آزاد سب برابر ہیں،عظمت تقویٰ سے ہے حضور صلی الله علیہ و سلم نے اپنے اس عمل سے یہ فرق توڑ دیا ۔
۵؎خیال رہے کہ حضرت زید ابن حارثه غزوہ موتہ میں شہید ہوگئے تھے،اس بار حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت اسامہ کو امارت کے لیے منتخب کیا اس لشکر کی امیری جس میں حضرت فاروق عام مہاجرین و انصار تھے عام منافقین نے اعتراض کیا کہ ایسے لوگوں کے ہوتے ہوئے اسامہ کو امیر بنانا درست نہیں۔(اشعۃ اللمعات)
۶؎زید ابن حارثہ کی والدہ سعدی بنت ثعلبہ قبیلہ بنی معن سے تھیں،اپنی قوم سے ملنے جارہی تھیں کہ بنی قین نے حملہ کرکے زید کو اغوا کرلیا،آپ اس وقت آٹھ سالہ تھے،بازار عکاظ میں حکیم ابن حزام ابن خویلد کے ہاتھ فروخت کردیا،حکیم نے اپنی پھوپھی جناب خدیجہ کو ہبہ کردیا،جب حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے بی بی خدیجہ سے نکاح کیا تو بی بی خدیجہ نے حضور کو بخش دیا،حضور نے ان پر قبضہ کرلیا یہ خبر زید کے گھر والوں کو پہنچی تو زید کے والد حارثہ اور ان کے چچا کعب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہمارا بچہ ہم کو عطا فرمادیں حضور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ چاہیں تو لے جائیں،حضرت زید نے کہا کہ حضور انور پر میرے ماں باپ سارا کنبہ فدا میں حضور کے قدموں میں ہی رہنا چاہتا ہوں،آپ نے مقام حجر میں کھڑے ہوکر فرمایا کہ لوگو گواہ رہنا میں زیدکو اپنا بیٹا بناتا ہوں پھر حضور صلی الله علیہ و سلم نے زید کا نکاح ایک عالی نسب قرشیہ بی بی زینب سے کردیا مگر زید اور زینب میں سلوک نہ ہوا انہوں نے طلاق دے دی تب زینب سے حضور نے نکاح کیا،یہ واقعہ نکاح قرآن مجید میں موجود ہے۔زینب حضور کی پھوپھی زاد بہن تھیں،زید غزوہ موتہ میں ۸ ∞آٹھ ہجری جمادی اولٰی میں شہید ہوئے،پچیس سال عمر پائی۔ (مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6150