Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6150

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهٖ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَأَيْمُ اللّٰهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هٰذَالَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوُهٗ وَفِي آخِرهٖ: «أُوصِيكُمْ بِهٖ فَإِنَّهٗ مِنْ صَالِحِيكُمْ»

وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بعثا وأمر عليهم أسامة بن زيد فطعن بعض الناس في إمارته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن كنتم تطعنون في إمارته فقد كنتم تطعنون في إمارة أبيه من قبل وأيم الله إن كان لخليقا للإمارة وإن كان لمن أحب الناس إلي وإن هذالمن أحب الناس إلي بعده»(متفق عليه) وفي رواية لمسلم نحوه وفي آخره: «أوصيكم به فإنه من صالحيكم»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر حضرت اسامہ ابن زید کو امیر بنایا ۱∞؎تو بعض لوگوں نے ان کی امارت میں اعتراض کیا۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ان کے امیر ہونے میں طعنہ کرتے ہو تو تم ان کے والد کے امیر ہونے میں بھی اس سے پہلے طعنہ کرتے تھے۳؎الله کی قسم وہ امیری کے لائق تھے۴؎اور وہ مجھے لوگوں سے زیادہ پیارے تھے اور یہ بھی ان کے بعد مجھے لوگوں میں پیارے ہیں ۵؎(مسلم،بخاری )اور مسلم کی دوسری روایت میں اسی کی مثل ہے اس کے آخر میں ہے کہ تم کو ان کے متعلق وصیت کرتا ہوں کہ وہ تمہارے صالحین میں سے ہیں ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت اسامہ ابن زید کو حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے اپنی حیات شریف میں بہت بار امیر لشکر بنایا تھا وفات کے قریب بھی ایک لشکر پر آپ ہی کو امیر بنایا اسے سریہ اسامہ کہتے ہیں۔جب پہلی بار انہیں امیر بنایا تب یہ واقعہ پیش آیا یا ہر دفعہ یہ ہی واقعہ ہوا کہ لوگ ان کی امارت پر اعتراض کرتے رہے۔
۲
؎یہ طعن کرنے والے منافقین اور عرب کے بدوی لوگ تھے جو حضرت زید اور اسامہ ابن زید کی امارت پر اس لیے اعتراض کرتے تھے کہ یہ حضرات غلام تھے اور اہل عرب کبھی غلاموں کو کسی کا سردار نہیں بناتے تھے اسلام نے غلاموں کو اٹھا کر سردار بنادیا؎اس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کردیا اس نے قطروں کو ملایا اور دریا کردیا
۳
؎خیال رہے کہ غزوہ موتہ میں جو شام کے علاقہ میں ہے حضور انور نے حضرت جعفر طیار جیسے بزرگوں کے ہوتے ہوئے حضرت زیدابن حارثہ کو امیر لشکر بنایا لوگ حیران ہوگئے،منافقین اور ناواقفین نے اس انتخاب پر اعتراض کیا کہ غلام کی امیری کیسی حضور انور یہاں اس کا ذکر فرما رہے ہیں۔
۴
؎یعنی اسلام میں غلامی آزادی کا فرق غلط ہے یہاں ہر مؤمن غلام ہو یا آزاد سب برابر ہیں،عظمت تقویٰ سے ہے حضور صلی الله علیہ و سلم نے اپنے اس عمل سے یہ فرق توڑ دیا ۔
۵
؎خیال رہے کہ حضرت زید ابن حارثه غزوہ موتہ میں شہید ہوگئے تھے،اس بار حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت اسامہ کو امارت کے لیے منتخب کیا اس لشکر کی امیری جس میں حضرت فاروق عام مہاجرین و انصار تھے عام منافقین نے اعتراض کیا کہ ایسے لوگوں کے ہوتے ہوئے اسامہ کو امیر بنانا درست نہیں۔(اشعۃ اللمعات)
۶
؎زید ابن حارثہ کی والدہ سعدی بنت ثعلبہ قبیلہ بنی معن سے تھیں،اپنی قوم سے ملنے جارہی تھیں کہ بنی قین نے حملہ کرکے زید کو اغوا کرلیا،آپ اس وقت آٹھ سالہ تھے،بازار عکاظ میں حکیم ابن حزام ابن خویلد کے ہاتھ فروخت کردیا،حکیم نے اپنی پھوپھی جناب خدیجہ کو ہبہ کردیا،جب حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے بی بی خدیجہ سے نکاح کیا تو بی بی خدیجہ نے حضور کو بخش دیا،حضور نے ان پر قبضہ کرلیا یہ خبر زید کے گھر والوں کو پہنچی تو زید کے والد حارثہ اور ان کے چچا کعب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہمارا بچہ ہم کو عطا فرمادیں حضور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ چاہیں تو لے جائیں،حضرت زید نے کہا کہ حضور انور پر میرے ماں باپ سارا کنبہ فدا میں حضور کے قدموں میں ہی رہنا چاہتا ہوں،آپ نے مقام حجر میں کھڑے ہوکر فرمایا کہ لوگو گواہ رہنا میں زیدکو اپنا بیٹا بناتا ہوں پھر حضور صلی الله علیہ و سلم نے زید کا نکاح ایک عالی نسب قرشیہ بی بی زینب سے کردیا مگر زید اور زینب میں سلوک نہ ہوا انہوں نے طلاق دے دی تب زینب سے حضور نے نکاح کیا،یہ واقعہ نکاح قرآن مجید میں موجود ہے۔زینب حضور کی پھوپھی زاد بہن تھیں،زید غزوہ موتہ میں ۸؁ ∞آٹھ ہجری جمادی اولٰی میں شہید ہوئے،پچیس سال عمر پائی۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6150