Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6182

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحِبُّوا اللّٰهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِۃٍ وَأَحِبُّونِي لِحُبِّ اللّٰهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أحبوا الله لما يغذوكم من نعمۃ وأحبوني لحب الله وأحبوا أهل بيتي لحبي . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمت سے روزی دیتا ہے ۱∞؎اور الله کی محبت کے لیے مجھ سے محبت کرو۲؎اور میری محبت کے لیے میرے اہل بیت سے محبت کرو۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں انسان کی ابتدائی منزل کا ذکر ہے۔رب کی نعمتوں کی وجہ سے اس سے محبت کرنا ابتداء ہے اور بذات خود اس سے محبت کرنا وہ نعمت دے یا نہ دے یہ ہے انسان کی انتہاء،ابتداء محبت کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے"فَلْیَعْبُدُوۡا رَبَّ هٰذَا الْبَیۡتِ الَّذِیۡۤ اَطْعَمَهُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ"رب تعالٰی اپنی ذات و صفات سے محبوب ہے کرم نوازیاں تو بعد کی چیزیں ہیں۔
۲
؎یعنی الله کی محبت حاصل کرنے کے لیے مجھ سے محبت کرو کیونکہ میں الله تعالٰی کا محبوب ہوں،محبوب کا محبوب خود اپنا محبوب ہوتا ہے،رب فرماتاہے:"فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللهُ
۳
؎یعنی میری محبت حاصل کرنے کے لیے میرے گھر والوں اولاد پاک ازواج مطہرات سے محبت کرو کیونکہ وہ میرے محبوب ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ان محبتوں میں ترتیب یہ ہے کہ اہلِ بیت کی محبت زینہ ہے حضور کی محبت کا اور حضور کی محبت ذریعہ ہے رب تعالٰی کی محبت کا۔(ازمرقات)مطلب یہ ہے کہ محبت اہلِ بیت اس لیے چاہیے کہ وہ محبت رسول کا ذریعہ ہے اس لیے نہیں کہ وہ بغض صحابہ کا ذریعہ بنے جیساکہ آج کل بعض مدعیان اہلِ بیت کا طریقہ ہے کہ ان کے نزدیک محبت اہل بیت تبرا صحابہ سے مکمل ہوتا ہے،یہ لوگ محبتِ اہل بیت کو بہانہ بناتے ہیں صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6182