Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6177

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ فَقَالَا لِأُسَامَةَ: اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ. فَقَالَ: «أَتَدْرِي مَا جَاءَ بِهِمَا؟» قُلْتُ: لَا.قَالَ:« لٰكِنِّي أَدْرِي ائْذَنْ لَهُمَا» فَدَخَلَا فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ» قَالَا: مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ قَالَ: " أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ " قَالَا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ؟ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذُكِرَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ فِي "كِتَابِ الزَّكَاةِ".

وعن أسامة قال: كنت جالسا إذ جاء علي والعباس يستأذنان فقالا لأسامة: استأذن لنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله علي والعباس يستأذنان. فقال: «أتدري ما جاء بهما؟» قلت: لا.قال:« لكني أدري ائذن لهما» فدخلا فقالا: يا رسول الله جئناك نسألك أي أهلك أحب إليك؟ قال: «فاطمة بنت محمد» قالا: ما جئناك نسألك عن أهلك قال: " أحب أهلي إلي من قد أنعم الله عليه وأنعمت عليه: أسامة بن زيد " قالا: ثم من؟ قال: «ثم علي بن أبي طالب» فقال العباس: يا رسول الله جعلت عمك آخرهم؟ قال: «إن عليا سبقك بالهجرة». رواه الترمذي وذكر أن عم الرجل صنو أبيه في "كتاب الزكاة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ سے فرمایا کہ میں بیٹھا ہوا تھا ۱∞؎کہ جناب علی و عباس آئے اجازت داخلہ چاہتے تھے انہوں نے اسامہ سے کہا کہ ہمارے واسطے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے اجازت لے دو ۲؎میں نے عرض کیا یارسول الله علی اور عباس اجازت مانگ رہے ہیں فرمایا کیا تم جانتے ہو کیا مقصد انہیں یہاں لایا ہے میں نے کہا نہیں فرمایالیکن میں جانتا ہوں۳؎انہیں اجازت دے دو وہ دونوں حاضر ہوئے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم یہ پوچھنے حاضر ہوئے ہیں کہ حضور کو اپنے گھروالوں میں کوئی زیادہ پیارا ہے۴؎فرمایا فاطمہ بنت محمد،وہ بولے ہم آپ کے اہل بیت کے متعلق پوچھنے نہیں آئے ہیں ۵؎فرمایا میرے گھر والوں میں مجھے زیادہ پیارا وہ ہے جس پر الله نے بھی انعام کیا اور میں نے بھی انعام کیا ۶؎یعنی اسامہ ابن زید۷؎وہ بولے پھر کون فرمایا علی ابن ابی طالب ۸؎تو جناب عباس نے کہا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ نے اپنے چچا کو ان سب سے آخر کر دیا۹؎فرمایا کہ علی تم سے ہجرت میں سبقت لے گئے ہیں ۱۰؎(ترمذی)یہ حدیث کہعم الرجل صنو ابیہکتاب الزکوۃ میں ذکر کردی گئی۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں حضور کے دروازے پر دربان بن کر بیٹھا تھا جسے اس در کی دربانی مل جاوے وہ بادشاہ سے افضل ہوجاوے۔
۲
؎اگر دروازہ پر کوئی نہ ہو تو سلام اجازت بلند آواز سے کرے کہ اندر آواز پہنچے اور اگر کوئی ہو تو اس کے ذریعہ سے اجازت حاصل کرے یہاں یہ ہی دوسری صورت تھی۔
۳
؎یعنی ہم نور نبوت سے ان کے دل کے ارادے جانتے ہیں،جس پر عرش و فرش کی ہر چیز ظاہر ہو اس سے کیا چھپے۔اعلٰی حضرت قدس سرہٗ نے خوب فرمایا ۔شعر
دلِ فرش پر ہے تری نظر سرعرش پر ہے تری گزر
ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں
۴
؎یعنی حضور فرمادیں کہ آپ کو زیادہ پیارا کون ہے تاکہ ہم اس کی محبوبیت پر ایمان لائیں اور ہم بھی اس سے محبت کریں۔
۵
؎یہاںاھلسے مراد اولاد ہے یعنی ہم محبت ولادت کے متعلق نہیں پوچھتے ہم تو دوستوں کی دوستی کی محبت کے متعلق حضور سے پوچھنے آئے۔معلوم ہوا کہ محبت کی بہت قسمیں ہیں: ولادت کی محبت،زوجیت کی،دوستی کی وغیرہ وغیرہ۔ان ہر قسم کے محبوبوں میں ایک ایک سردار،محبت ولادت میں فاطمہ زہرا سردار ہیں اور محبت زوجیت میں عائشہ صدیقہ اور خدیجۃ الکبریٰ اعلٰی و اکمل۔
۶
؎اس فرمان عالی میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے"اِذْ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنْعَمَ اللهُ عَلَیۡهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیۡهِ اَمْسِكْ عَلَیۡكَ زَوْجَكَ"۔یہ آیت حضرت زید ابن حارثہ کے متعلق ہے ان پر الله نے یہ احسان کیا کہ انہیں ایمان عرفان کی دولت بخشی،حضور انور نے یہ احسان کیا کہ انہیں اپنا صحابی بلکہ اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا۔معلوم ہوا کہ حضور بھی الله کے بندوں پر انعام احسان کرتے ہیں۔
۷
؎اگرچہ یہ انعام و اکرام حضرت زید پر ہوئے مگر چونکہ جناب اسامہ ان کے فرزند ہیں اس لیے وہ بھی اسی انعام سے فیض یاب ہوئے۔
۸
؎سبحان الله!یہاں حضرت علی کو محبوبیت میں جناب اسامہ ابن زید کے بعد فرمایا۔معلوم ہوا کہ محبوبیت افضلیت کو لازم نہیں۔تمام کے نزدیک حضرت علی جناب اسامہ سے افضل ہیں مگر یہاں محبوبیت میں ان کو مقدم فرمایا گیا۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں محبت کی نوعیتیں مختلف ہیں: ایک قسم وہ ہے جس میں جناب اسامہ حضرت علی سے پہلے اور ان پر مقدم ہیں۔
۹
؎یعنی یارسول الله میں تو حضور انور کا چچا ہوں اور جناب علی چچا زاد ہیں پھر ان کو مجھ پر مقدم کیوں فرمادیا اس کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔خیال رہے کہ یہ سوال اعتراض نہیں حضور انور پر اعتراض کفر ہے جو فرمایا بالکل حق فرمایا۔
۱۰
؎کیونکہ اے عباس تم نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فتح مکہ کے دن کی جب کہ ہم تم کو راہ میں مل گئے تمہاری ہجرت قبول ہوگئی مگر جناب علی تو ہماری ہجرت کی بعد ہی ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ چکے تھے۔خیال رہے کہ حضرت عباس کے ایمان کے متعلق اختلاف ہے کہ ایمان کب لائے،بعض نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور ایمان لاتے ہی ہجرت کے لیے نکلے،بعض نے فرمایا کہ آپ بدر کے دن ایمان لائے جبکہ حضور نے خبر دی کہ عباس آپ میری چچی صاحبہ کو چار سو درہم دے کر جنگ بدر میں شرکت کے لیے نکلے تھے حضور کا یہ علم دیکھ کر ایمان لائے،بعض کے نزدیک حضور کی ہجرت سے پہلے ایمان لاچکے تھے بہرحال ظہور ایمان فتح مکہ کے دن ہوا۔دیلمی نے فردوس میں نقل فرمایا کہ حضور فرماتے ہیں میرے بھائیوں میں بہتر علی ہیں،چچاؤں میں بہتر حمزہ ہیں۔بعض روایات میں ہے کہ ایک دن حضرت عباس،ابوسفیان،بلال اور سلمان فارسی حضرت عمر کے دروازےپرگئے داخلہ کی اجازت مانگی خادم نے کہا کہ پہلے بلال آئیں اس پر ابوسفیان نے جناب عباس سے کہا کہ عمر ہمارے غلاموں کو ہم پر ترجیح دیتے ہیں،حضرت عباس نے کہا کہ ہم اسلام میں بلال کے بعد آئے ہماری جزا یہی ہے۔(مرات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6177