Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6169

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللّٰهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبَطٌ مِنَ الأَسْبَاطِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن يعلى بن مرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«حسين مني وأنا من حسين أحب الله من أحب حسينا حسين سبط من الأسباط» رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن مرہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۲؎الله اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے،حسین اسباط میں سے ایک سبط ہیں ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت یعلیٰ صحابی ہیں،غزوہ خیبر،حنین،حدیبیہ،طائف میں شریک ہوئے،آخر میں بصرہ میں قیام رہا۔(مرقات،اشعہ)
۲
؎یعنی میں اورحسین گویا ایک ہی ہیں ہم دونوں سے محبت ہر مسلمان کو چاہیے،مجھ سے محبت حسین سے محبت ہے اور حسین سے محبت مجھ سے محبت ہے،چونکہ آئندہ واقعات حضور صلی الله علیہ و سلم کے پیش نظر تھے اس لیے اس قسم کی باتیں امت کو سمجھائیں۔(مرقات)احمد اور ابن عساکر نے روایت کی کہ حسن میرے ہیں اور حسین علی کے اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑا بیٹا دادا نانا کا ہوتا ہے چھوٹا بیٹا باپ کا،یہ تقسیم اظہار کرم کے لیے ہے دیکھو مرقات۔
۳
؎سبط وہ درخت جس کی جڑ ایک ہو اور شاخیں بہت یعنی جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اسباط کہلاتے تھے کہ ان سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل شریف بہت چلی،رب فرماتاہے:"وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیۡ عَشْرَۃَ اَسْبَاطًا اُمَمًا"ایسے ہی میرے حسین سے میری نسل چلے گی اور ان کی اولاد سے مشرق و مغرب بھرے گی،دیکھ لو آج سادات کرام مشرق و مغرب میں ہیں اور یہ بھی دیکھ لو کہ حسنی سید تھوڑے ہیں حسینی سید بہت زیادہ ہیں اس فرمان عالی کا ظہور ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6169