Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2505

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا» فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَسَكَتَ حَتّٰى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: " لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ " ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلٰى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن أبي هريرة قال:: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «يا أيها الناس قد فرض عليكم الحج فحجوا» فقال رجل: أكل عام يا رسول الله؟ فسكت حتى قالها ثلاثا فقال: " لو قلت: نعم لوجبت ولما استطعتم " ثم قال: ذروني ما تركتكم فإنما هلك من كان قبلكم بكثرة سؤالهم واختلافهم على أنبيائهم فإذا أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم وإذا نهيتكم عن شيء فدعوه ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ہم پر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خطبہ پڑھا ۱؎تو فرمایا اے لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا لہذا حج کرو ۲؎ایک شخص نے عرض کیا ۳؎یا رسول اللّٰه کیا ہر سال حضور خاموش رہے حتی کہ اس شخص نے تین بار کہا ۴؎تو فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے ۵؎پھر فرمایا مجھے چھوڑے رہو جس میں میں تم کو آزادی دوں ۶؎کیونکہ تم سے اگلے لوگ اپنے نبیوں سے زیادہ پوچھ گچھ اور زیادہ جھگڑنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے ۷؎لہذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو جہاں تک ہوسکے کر گزرو اور جب تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑدو ۸؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ خطبہ حج فرض ہونے کے سال مدینہ منورہ میں تھا، ۸ھ میں فتح مکہ ہوئی تو بعض لوگوں نے حج کیا، ۹ھ میں حضرت ابوبکر صدیق نے لوگوں کو حج کرایا اور ۱۰ھ میں حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حج فرمایا،ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حج کی فرضیت ۵ھ یا ۶ھ یا ۹ھ میں ہے،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا اتنے عرصہ تک حج نہ کرنا اس لیے تھا کہ آپ کو اپنی زندگی اور اپنے حج کرنے کا علم تھا۔حق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہجرت سے پہلے بھی دو یا تین حج کیے ہیں جیساکہ ترمذی،ابن ماجہ و حاکم نے حضرت جابر وغیرہم سے روایت کی۔(مرقات)
۲
؎اگر حج کی فرضیت فتح مکہ سے پہلے ۵ھ یا ۶ھ میں ہوئی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جب تمہیں مکہ معظمہ پہنچنا میسر ہوجائے تو حج کرنا،فرض تو ابھی ہوگیا ہے مگر اس کی ادا جب لازم ہوگی اور اگر فتح مکہ کے بعد ۹ھ میں فرض ہوا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس سال ہی حج کرو۔
۳
؎یہ عرض کرنے والے حضرت اقرع ابن حابس تھے،وہ سمجھے یہ کہ ہر رمضان میں روزے فرض ہوتے ہیں تو چاہیے کہ بقرعید میں حج فرض ہو کہ پھر یہ سوچا کہ اس میں لوگوں کو بہت دشواری ہوگی کیونکہ روزے تو اپنے گھر میں ہی رکھ لیے جاتے ہیں مگر حج کے لیے مکہ معظمہ جانا پڑتا ہے اور اطراف عالم سے ہر سال بیت اللّٰہ شریف پہنچنا بہت مشکل ہوگا اس لیے آپ نے یہ سوال کیا اور بار بار کیا تاکہ مسئلہ واضح ہوجائے۔
۴
؎اس سوال پر حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خاموشی اس لیے تھی کہ سائل سوال سے باز آجائے تاکہ ہم کو جواب کی ضرورت نہ ہو مگر سائل شوق کی زیادتی سے یہ اشارہ نہ سمجھ سکا۔
۵
؎یعنی پورا جواب تو کیا معنی،اگر ہم صرف ہاں کہہ دیتے تب بھی ہرسال حج فرض ہوجاتا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اللّٰه تعالٰی نے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو احکام شرعیہ کا مالک بنایا ہے کہ آپ کی ہاں اور نہ میں تاثیر ہے جس کے قوی دلائل موجود ہیں کیوں نہ ہو کہ آپ کا کلام وحی الٰہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوۡحٰی"۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "سلطنت مصطفی " میں ملاحظہ فرمایئے۔دوسرے یہ کہ بزرگوں سے اعمال اور وظیفوں میں قید یا پابندی نہ لگوانی چاہیے بلا قید عمل کرنا چاہیے۔
۶
؎یعنی ہمارے احکام میں کیوں،کیسے اور کب کہہ کر قید نہ لگائیں ہم شرعی احکام کی تبلیغ ہی کے لیے تو بھیجے گئے ہیں ضروری چیزیں ہم خود بیان فرما دیں گے۔(لمعات)
۷
؎اس طرح کہ انہوں نے زیادہ پوچھ پوچھ کر پابندیاں لگوالیں،پھر ان پابندیوں پر عمل نہ کرسکے یا انہوں نے عمل تو کیا مگر بہت مشکل سے جیسے ذبح گائے کا واقعہ ہوا۔
۸
؎یعنی میرے احکام پر عمل کر نا فرض ہے اور ممنوعات سے بچنا لازم،یہ دونوں کام بقدر طاقت ہیں اگر نماز کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھ لو،اگر جان پر بن جائے تو مردار کھا لو۔اس سے معلوم ہوا کہ جیسے وجوب و فرضیت کے لیے امر ضروری ہے ایسے ہی حرمت و ممانعت کے لیے نہی لازم،جس چیز کا حکم بھی نہ ہو اور ممانعت بھی نہ ہو وہ جائز ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:" وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ "۔بعض جو کہتے ہیں کہ جو کام حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ کیا ہو وہ حرام ہے غلط ہے قرآن شریف کے بھی خلاف ہے اور اس قسم کی احادیث کے بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2505