Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2532

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصٰى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُمَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ وَمَا تَأَخَّرَ أَوْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن أم سلمة قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من أهل بحجة أو عمرة من المسجد الأقصى إلى المسجد الحرام غفر لهما تقدم من ذنبه وما تأخر أو وجبت له الجنة. رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام تک حج یا عمرہ کا احرام باندھے ۱؎تو اسکے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں یا اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ پہلے بیت المقدس کی زیارت کرے،پھر وہاں سے حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ معظمہ حاضر ہو کر حج یا عمرہ کرے۔
۲
؎یہ شک راوی کا ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مغفرت کا وعدہ فرمایا یا جنت کی عطاء کا ۔اس سے معلوم ہوا کہ جس قدر دور سے احرام بندھے گا اسی قدر زیادہ ثواب ملے گا۔خیال رہے کہاَشْھُرِ حَرَمْسے پہلے حج کا احرام باندھنا ہمارے ہاں مکروہ ہے۔امام شافعی کے ہاں وہ احرام عمرہ کا ہوجائے گا یا بندھے گا ہی نہیں مگر میقا ت سے پہلے حج کا احرام باندھ لینا حتی کہ اپنے گھر سے ہی احرام باندھ کر نکلنا افضل ہے بشرطیکہ احرام کی پابندیاں پوری کرسکے اَشْہُرِ حج یعنی حج کے مہینہ شوال،ذیقعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے ہیں کل دو ماہ دس دن۔
۳
؎حاکم نے مستدرک میں عبداللّٰه ابن سلمہ مری سے روایت کیا۔حضرت علی سے کسی نے اس آیت کے متعلق پوچھا "وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ"کہ حج و عمرہ کا پورا کرنا کیا ہے فرمایا یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے احرام باندھ کر نکلو،مشکوۃ کی اس حدیث کو بیہقی وغیرہ نے بھی روایت کیا،امام نووی نے فرمایا کہ یہ حدیث قوی نہیں،دیگر محدثین نے فرمایا حسن ہے،غرضکہ یہ حدیث حسن لغیرہ ہے اور دونوں کلاموں میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2532