Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2513

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَخَرَجَتْ امْرَأَتِي حَاجَّةً قَالَ: اذهبْ فاحجُجْ مَعَ امرأتِكَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم . فقال رجل: يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال: اذهب فاحجج مع امرأتك»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کوئی شخص کسی عورت سے خلوت نہ کرے ۱؎اور کوئی عورت اس کے بغیر سفر نہ کرے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۲؎ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللّٰه میں فلاں جہاد میں لکھ لیا گیا ہوں اور میری بیوی حج کو جارہی ہے فرمایا جا اپنی بیوی کے ساتھ حج کر ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس عورت سے نکاح جائز ہو اس کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے کہ فتنہ کا اندیشہ ہے،ماں،بہن،بیٹی کا یہ حکم نہیں۔
۲
؎محرم عورت کا وہ عزیز ہے جس سے نسب یا رضاعت یا صہریت کی وجہ سے ہمیشہ نکاح حرام ہولہذا رضاعی بھائی سسرو داماد وغیرہ کے ساتھ سفر جائز ہے لہذا اگر عورت مکہ معظمہ سے تاحدِ سفر دور ہو اس پر بغیر محرم حج فرض نہ ہوگا،یہ ہی مذہب احناف ہے۔
۳
؎اس وقت جہاد فرض عین نہ تھا فرض کفایہ تھا کہ تھوڑے مسلمان کفار کا مقابلہ کرسکتے تھے اس لیے اس کا نام مجاہدین کی فہرست سے خارج کردیا گیا۔خیال رہے کہ اما م شافعی کے ہاں چند عورتیں ثقہ مل کر حج کرسکتی ہیں،امام مالک کے ہاں ثقہ مرد کے ساتھ بھی حج جائز ہے جیسے ہجرت،بعض اماموں کے ہاں اگرچہ چند عورتیں مل کر حج کریں اور ان میں سے ایک عورت کا محرم ساتھ ہو تو سب کا حج درست ہے مگر مذہب احناف قوی ہے،چونکہ اس شخص کی جگہ دوسرا آدمی جہاد کرسکتا تھا مگر دوسرا آدمی اس کی بیوی کو حج نہیں کراسکتا تھا اس لیے مجاہدین سے نکال کر حج کرانے کا حکم دیا گیاکہ ابھی انکی بیوی حج کو روانہ نہ ہوئی تھی بلکہ تیاری کررہی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2513