Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2535

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لم يمنعه من الحج حاجة ظاهرة أو سلطان جائر أو مرض حابس فمات ولم يحج فليمت إن شاء يهوديا وإن شاء نصرانيا . رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حصرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جس کو حج سے کوئی ظاہری ضرورت ہے یا ۱؎ظالم بادشاہ ۲؎یا روکنے والی بیماری نہ روکے ۳؎پھر وہ حج کئے بغیر مرجائے تو چاہے یہودی ہو کر مرے اور چاہے عیسائی ہوکر مرے ۴؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎جیسے فقیری یعنی توشہ و سواری پر قدرت نہ ہو نا کہ ہر دونوں چیزیں وجوب حج کی شرطیں ہیں۔
۲
؎یا تو خود اپنے ملک کا بادشاہ ظالم ہو کہ ظلمًا حج کو جانے کی اجازت نہ دیتا ہو یا راستہ میں کسی سلطان کی حکومت ہو وہ حجاج کو گزرنے نہ دیتا ہو یا مکہ معظمہ کا بادشاہ ظالم ہو کہ حجاج کو داخل نہ ہونے دے۔ان تینوں صورت میں راستہ کا امن مفقود ہے اور راستہ کا امن وجوب ادائے حج کی شرط ہے۔ظالم کی قید سے معلو م ہوا کہ اگر بادشاہ حجاج کو مہربانی و محبت سے روکے تو اس کا اعتبار نہیں حج فرض ہوگا۔(مرقات)
۳
؎بیماری سے وہ بیماری مراد ہے جو سفر سے مانع ہو۔تندرستی بعض کے نزدیک شرط وجوب ہے اور بعض کے ہاں شرط ادا،پہلی صورت میں بیمار کی طرف سے حج بدل کرانا لازم ہوگا دوسری صور ت میں نہیں ،ہمارے امام صاحب کاہاں شرط ادا ہے کہ اگر کسی کے پاس مال سخت بیماری یا معذوری کی حالت میں آیا اس پر حج فرض نہیں ۔(مرقات)
۴
؎یعنی اس کی موت یہود و نصاریٰ کی سی ہے کہ وہ لوگ کتاب اللّٰه پڑھتے تھے مگر عمل نہ کرتے تھے ایسے ہی یہ قرآن شریف پڑھتا رہا اور حج کی آیت پر بلا عذر عمل نہ کیا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بدعملی فسق ہے کفر نہیں،پھر اس کی موت کو یہودیوں عیسائیوں کی موت کیوں فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2535