Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2533

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ فَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ سَأَلُوا النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى: (وتزَوَّدُوا فإِنَّ خيرَ الزَّادِ التَّقْوٰى)رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن ابن عباس قال: كان أهل اليمن يحجون فلا يتزودون ويقولون: نحن المتوكلون فإذا قدموا مكة سألوا الناس فأنزل الله تعالى: (وتزودوا فإن خير الزاد التقوى)رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ یمن کے لوگ حج کرنے آتے تو توشہ ساتھ نہ لاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم متوکل لوگ ہیں ۱؎پھر جب مکہ معظمہ پہنچے تو لوگوں سے سوال کرتے تھے۲؎اس پر اللّٰه تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ توشہ ساتھ لو کیونکہ بہترین توشہ سوال سے بچنا ہے۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو یہ لوگ بالکل ہی توشہ ساتھ نہ لاتے تھے مانگتے کھاتے آتے تھے یا اس قدر تھوڑا توشہ لاتے تھے جو راستہ میں ہی خرچ ہوجاتا اور مکہ معظمہ پہنچ کر بے خرچ رہ جاتے،وہ اپنے کو متوکل کہتے تھے مگر درحقیقت متاکل تھے یعنی مانگنے والے وہ کہتے تھے کہ ہم اللّٰه کے گھر جارہے ہیں،اس کے مہمان ہیں، مہمان ساتھ کھانا کیوں لائے۔
۲
؎بلکہ جب بھیک مانگنے سے کام نہ چلتا تو چوری ڈکیتی کر تے تھے۔(مرقات)یہ غلط توکل آج بھی بعض نکموں کے دل میں سمایا ہوا ہے کہ بیکار رہنے بھیک مانگنے کو توکل کہتے ہیں حالانکہ توکل کے معنی یہ ہیں۔شعر
گر توکل مے کنی دو کارکن کسب کن پس تکیہ برجبار کن
۳
؎یعنی دنیا میں حج وغیرہ کے موقعہ پر بقدر ضرورت توشہ تو ساتھ لو،یہ توشہ توکل کے خلاف نہیں۔پرہیزگاری اسی میں ہے کہ بھیک،چوری،ڈکیتی، قرض اور غضب سے بچا جائے۔صوفیائے فرماتے ہیں کہ دنیا کے سفر کا توشہ مال ہے اور آخرت کے سفر کا توشہ نیک اعمال،رب تعالٰی تک پہنچنے کا توشہ کمال۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2533