Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2659

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ: «إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهٖ يَوْمَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ» وَقَالَ: «أَيُّ شَهْرٍ هٰذَا؟» قُلْنَا: اَللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا أَنَّهٗ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهٖ فَقَالَ: «أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟» قُلْنَا: بَلٰى . قَالَ: «أَيُّ بَلَدٍ هٰذَا؟» قُلْنَا: اَللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا أَنَّهٗ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهٖ قَالَ: «أَلَيْسَ الْبَلْدَةُ؟» قُلْنَا: بَلٰى قَالَ «فَأَيُّ يَوْمٍ هٰذَا؟» قُلْنَا: اَللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا أَنَّهٗ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهٖ . قَالَ: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قُلْنَا: بَلٰى . قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا فِي شَهْرِكُمْ هٰذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بِعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي بكرة قال: خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر قال: «إن الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السماوات والأرض السنة اثنا عشر شهرا منها أربعة حرم ثلاث متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان» وقال: «أي شهر هذا؟» قلنا: الله ورسوله أعلم فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه فقال: «أليس ذا الحجة؟» قلنا: بلى . قال: «أي بلد هذا؟» قلنا: الله ورسوله أعلم فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه قال: «أليس البلدة؟» قلنا: بلى قال «فأي يوم هذا؟» قلنا: الله ورسوله أعلم فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه . قال: «أليس يوم النحر؟» قلنا: بلى . قال: «فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا وستلقون ربكم فيسألكم عن أعمالكم ألا فلا ترجعوا بعدي ضلالا يضرب بعضكم رقاب بعض ألا هل بلغت؟» قالوا: نعم. قال: «اللهم اشهد فليبلغ الشاهد الغائب فرب مبلغ أوعى من سامع»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں کہ بقر عید کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہم کو خطبہ دیا ۱؎فرمایا کہ زمانہ گھوم پھر کر اپنی اسی حالت پر آگیا ۲؎جس پر اللّٰه نے اسے آسمان و زمین بنانے کے دن کیا تھا۳؎سال بارہ مہینے کا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۴؎تین تو مسلسل ہیں ذیقعدہ،ذی الحجہ،محرم چوتھا قبیلہ مضر کا ماہ رجب جو دو جمادوں اور شعبان کے درمیان ہے ۵؎فرمایا یہ کون مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللّٰه و رسول جانیں حضور انور خاموش رہے حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ حضور اس کا اس کے نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے ۶؎تو فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا اللّٰه رسول جانیں حضور خاموش رہے حتی کہ ہم سمجھے آپ اس کے نام کے علاو ہ کوئی اور نام رکھیں گے ۷؎فرمایا کیا یہ مکہ معظمہ شہر نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا اچھا یہ کون دن ہے ہم نے عرض کیا اللّٰه رسول جانیں حضور خاموش رہے حتی کہ ہم سمجھے کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے(اصلی نام کے سوا)فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہم نے عرض کیا ہاں ۸؎فرمایا تو تمہارے خون تمہارے مال تمہاری آبروئیں تم میں سے ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسے ہمارے اس دن کی حرمت ہمارے اس شہر اور اس مہینہ میں ۹؎تم عنقریب اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۱۰؎تو خبردار میرے بعد گمراہ ہوکر نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں ۱۱؎خبردار رہو کیا میں نے تبلیغ کر دی سب بولے ہاں فرمایا الٰہی گواہ ہوجا لازم ہے کہ حاضرین غائبوں کو پہنچا دیں بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوں گے۱۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ خطبہ بمعنی وعظ و نصیحت ہے نہ کہ وہ خطبہ مسنونہ جو حج میں ہوتا ہے کہ وہ گیارھویں بقرعید کو منٰی میں ہے،یہ خطبہ اس خطبہ کے علاوہ ہے جو نویں کو عرفات میں دیا جاتا ہے،ان خطبوں میں بقیہ ارکان حج کی تعلیم ہوتی ہے۔اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ خطبہ حج نہیں ہے ورنہ اس میں مسائل حج بیان ہوتے،یہ خطبہ بعد نماز ظہر تھا۔
۲
؎زمانہ مطلقًا وقت کو کہتے ہیں،یہاں بمعنی سال ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہرہورہا ہے،سال بھی قمری مراد ہے نہ کہ شمسی۔
۳
؎اہل عرب زمانہ جاہلیت میں دو حرکتیں کرتے تھے ایک تو کبھی سال کو تیرہ ماہ کا بنادینا۔دوسرے مہینوں کی تبدیلی اگر اُن کی جنگ کے زمانہ میں ماہ حرم مثلًا رجب آجاتا اور ابھی جنگ باقی ہوتی تو اسے کوئی اور مہینہ قرار دے لیتے تاکہ جنگ جاری رکھ سکیں،پھر جنگ ختم ہونے کے بعد کسی اور مہینے کو رجب مان لیتے،یوں ہی بقرعید میں تبدیلی کرلیتے تھے تاکہ حج جس موقعہ پر آسان ہو اس پرکرلیں۔چنانچہ جس سال جناب آمنہ خاتون حاملہ ہوتی ہیں اسی سال رجب کو بقرعید مان کر حج کیا گیا تھا اسی لیے روایات میں آتا ہے کہ جناب آمنہ کا حاملہ ہونا ایام منٰی میں ہوا،جس سال حضور انور نے حج کیا اسی سال حسن اتفاق سے سال بارہ ماہ کا ہوا اور ہر مہینہ اپنے اصل پر منایا گیا۔اس فرمان عالی میں یہ ہی ارشاد ہے کہ اس سال ہر مہینہ اس وقت ہوا ہے جس وقت رب نے اسے مقرر کیا تھا مہینے گھومتے پھرتے ہوئے اس سال اپنے صحیح وقت پرگزرے۔ہماری اس تقریر سے وہ اعتراض اٹھ گیا کہ جب استقرار حمل شریف ایام حج میں ہوا اور ربیع الاول میں ولادت مبارک ہوئی تو نو ماہ کیسے پورے ہوئے۔معلوم ہوگیا کہ وہ ماہ رجب تھا جسے بقر عید بنا کر حج کیا گیا تھا۔
۴
؎حق یہ ہے کہالسنۃجملہ مستقلہ ہے اوراثنا عشربوجہ خبر مبتداء ہونے کے مرفوع ہے،بعض کے خیال میںالسنۃخلقکا مفعول اولٰی ہےاثناءعشرمفعول دوم۔اس فرمان میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"اِنَّ عِدَّۃَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَھۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ"الخ۔۵؎زمانہ جاہلیت میں یہ چار ماہ بڑی حرمت والے تھے جن میں جنگ حرام تھی،اسلام میں ان مہینوں کی حرمت تو برقرار رکھی کہ ان میں گناہ کو سخت جرم قرار دیا جیسے بحالت احرام حرم شریف میں گناہ سخت جرم ہے مگر جنگ کی حرمت کو منسوخ فرمادیا۔چنانچہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے غزوہ طائف شوال میں اور غزوہ حنین ذی قعدہ میں کیا، حضور انور کے بعد صحابہ کرام ہر مہینہ میں جہاد کرتے رہے۔مضر ایک قبیلہ کے مورث اعلٰی کا نام ہے جس کے نام سے یہ قبیلہ مضر کہلاتا ہے،چونکہ وہ شخص لسی بہت پسندکرتا تھا اور اس کا رنگ بھی لسی کی طرح سفید تھا اس لیے اسے مضر کہتے تھے،مُضَرکے معنے ہیں مٹھایا لسی،چونکہ یہ قبیلہ ماہ رجب کا بہت ہی ادب و احترام کرتا تھا اس لیے رجب اس قبیلہ کی طرف منسوب فرمایا گیا۔خیال رہے کہ مکہ معظمہ ۸ھ میں فتح ہوا،اس سال حضور انور نے امیر الحج عتاب ابن اسید کو مقرر کیا اور ۹ھ کے حج کا امیر ابوبکر صدیق کو اور ۱۰ھ میں خود حج فرمایا تو یقینًا ۹ھ و ۱۰ ھ میں بھی ہر مہینے اپنے موقعہ پر تھا اور حج صحیح وقت پر ادا ہوا تھا ورنہ سرکار کبھی غلط وقت پر حج کی اجازت نہ دیتے لہذا اس جملہ شریف کے یہ معنے نہیں کہ صرف اس سال ہی سال درست گزرا،بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس سال صحیح حج ہوا گزشتہ سالوں کی طرح اور اب تم مہینے اس حساب سے گزارنا۔(مرقات وفتح الباری)خیال رہے کہ قبیلہ مضر نے ماہ رجب میں کبھی تبدیلی نہ کی تھی اس لیے رجب کو انہیں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا اور انہیں کے رجب سے حساب لگتا تھا۔
۶
؎یہ صحابہ کرام کاادب بارگاہ رسالت ہے کہ باوجودیکہ وہ جانتے تھے کہ آج حج ہے،بقر عید کا مہینہ ہے،دسویں ذی الحجہ ہے مگر جواب نہ دیا کیونکہ رب نے فرمایا:"لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوۡلِہٖ"حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا کچھ خاموش رہنا اہتمام کے لیے تھا کہ جو چیز انتظار کے بعد معلوم ہو وہ یاد خوب رہتی ہے،اس جواب سے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا اللّٰه رسول جانیں۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا ذکر رب کے ساتھ کرناشرک نہیں عین ایمان ہے،اللّٰه رسول کے ملانے کا نام ایمان ہے الگ کرنے کا نام کفر،رب تعالٰی فرماتاہے:"یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِہٖ"اور فرماتا ہے:"اُولٰٓئِكَ هُمُ الْکٰفِرُوۡنَ حَقًّا
۷
؎صحابہ کے اس گمان سے معلوم ہورہا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو نام تبدیل کرنے کا اختیار ہےاور آپ ہی کا رکھا ہوا نام باقی رہے گا،دیکھو حضور نے ایک صحابی کا نام رکھ دیا ابوہریرہ یعنی بلیوں والے تو ان کے ماں باپ کا رکھا ہوا نام گم ہوگیا۔
۸
؎بلدہ ہر شہر کو اورنحر ہر ذبح کو کہتے ہیں مگر اب عرف میں بلدہ سے مکہ معظمہ اور نحر سے قربانی مراد ہوتی ہے جیسے بیت لغۃً ہر گھر ہے مگر اب عرف میں مطلقًا بیت کعبہ معظمہ یعنی بیت اللّٰه کو کہتے ہیں اسی بنا پر یہ گفتگو ہورہی ہے۔مکہ معظمہ ہمیشہ سے شہر رہا ہے اوران شاءاللّٰهشہر رہے گا۔جن بزرگوں نے کہا کہ شہر وہ بستی ہے جہاں کے مسلمان اس کی بڑی مسجد میں نہ سماسکیں یہ غلط ہے ورنہ پھر مکہ معظمہ تو شہر نہ رہے گا کہ حرم شریف میں مکہ والے تو کیا سارے حجاج سما جاتے ہیں اور چھوٹے گاؤں جن کی مسجد چھوٹی سی ہو شہر بن جائے گا۔
۹
؎عام علماء فرماتے ہیں کہ حدود حرم میں جیسے نیکی ایک کی ایک لاکھ بن جاتی ہے ویسے ہی گناہ بھی ایک کا لاکھ ہے اس لیے حضور نے ارشاد فرمایا جیسے یہاں کا گناہ دوسرے مقامات کے گناہ سے سخت تر ہے ایسے ہی مسلمان کے خون مال آبرو ظلمًا برباد کرنا سخت تر ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡهِ بِالحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ"۔محققین علماء فرماتے ہیں کہ یہ زیادتی کیفیت میں ہے نہ کہ مقدار میں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰۤی اِلَّا مِثْلَھَا
۱۰
؎یعنی قیامت میں رب تعالٰی تمہارے ہر چھوٹے بڑے جانی مالی اعمال کا حساب فرمائے گا ابھی سے اس حساب کا خیال رکھو حضرت علی مرتضٰی فرماتے ہیں"حاسبوا قبل ان تحاسبوا" حساب دینے سے پہلے اپنا حساب خودلیتے رہو۔
۱۱
؎یہاںضلالفرمایا گیاضالکی جمع،بعض روایات میں کفارہے یعنی میرے بعدتم لوگ گمراہ یا کفار جیسے ظالم نہ بن جانا کہ بعض مسلمان بعض کو ظلمًا قتل کرنے لگیں،یہ خطاب صرف صحابہ کرام سے نہیں بلکہ تاقیامت ساری امت سے ہے۔خیال رہے کہ آخری خلافت عثمانیہ اور خلافت مرتضویہ میں جو صحابہ کرام میں لڑائیاں ہوئیں وہ غلط فہمی یا خطاء اجتہادی کی بنا پر تھیں نہ کہ نفسانیت و ظلم سے جیسے حضرت خالد نے خود حضور انور کے زمانہ میں ایک قوم کو جنہوں نے صبانا کہا تھا کافر سمجھ کر قتل کردیا اور حضورانورنے حضرت خالدکو نہ فاسق قرار دیا نہ ظالم یا کافر بلکہ انہیں توبہ کا بھی حکم نہ دیا۔یہاں ظالم قاتل کو کافر یا گمراہ فرمانا عمل کے لحاظ سے ہے نہ کہ عقیدے کے اعتبار سے یعنی یہ قتل و خوں ریزی کفار کا طریقہ ہے،جیسے قرآن کریم فرماتاہے:"وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَاتَکُوۡنُوۡا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ"تم لوگ نماز قائم کرو مشرکوں سے نہ ہو جاؤ حالانکہ نماز نہ پڑھنا شرک نہیں لہذا اس حدیث سے روافض یہ نہیں کہہ سکتے کہ صحابہ حضور کے بعد آپس کی جنگوں کی وجہ سے کافر ہوگئے۔
۱۲
؎حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہاں تین چیزیں فرمائیں: اپنی تبلیغ پر تمام کو گواہ بنایا،اب بھی حجاج روضہ اقدس پر عرض کرتے ہیں یارسول اللّٰه آپ نے پوری تبلیغ فرمادی یہ عرض اس سوال کا جواب ہے۔دوسرے تمام صحابہ کو احادیث کی تبلیغ کا حکم دیاعلماءکو چاہیے کہ دین چھپائیں نہیں،یہ حضور کی امانت ہے امت کے حوالہ کردیں۔تیسرے یہ کہ رحمت الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گاچمن اسلام میں پھول کھلتے رہیں گے میرے بعد بعض علماء آج کل کے بعض صحابہ سے زیادہ ذہین و نکتہ رس ہوں گے،رب نے اپنے حبیب کی اس بات کو کیسا سچا کیا۔سبحان اللّٰه! چاروں امام مجتہدین دیگر فقہاء صوفیاء بعد میں پیدا ہوئے جنہوں نے ان ہی احادیث سے قیمی موتی نکالے دین کو واضح کردیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2659